وہ غم کے استعارے ہیں
عزادارو
کوئی بھی درد
ان کے صبر سے سچا نہیں
کسی بھی خون کا رنگ
وہاں بیتی ہوئی شاموں سے تو
وہ غم کے استعارے ہیں
عزادارو
کوئی بھی درد
ان کے صبر سے سچا نہیں
کسی بھی خون کا رنگ
وہاں بیتی ہوئی شاموں سے تو
جل رہا ہے دشت تنہا، بلبلا پانی میں ہے
میری مٹی آگ میں ہے اور ہوا پانی میں ہے
کر رہے ہیں روشنی دونوں برابر ساتھ میں
چاند تنہا ہی کھڑا ہے، اور دیا پانی میں ہے
یہ جہاں اپنی زمین و آسماں کے بیچ میں
بیٹھنا بھی چاہتا ہے، اور کھڑا پانی میں ہے
عورتوں کا خدا
اب تو آ جا خدا
لوگ کہنے لگے ہیں
عورتوں کا خُدا ہی نہیں ہے
نارسائی کی بدبو
بے وفائی پہ مبنی تعفّن کی لہریں
گہری دھند
درد راستہ نہیں دکھاتا، یہ اندھا ہوتا ہے
دُھند کے عین درمیان لے جا کر
ہاتھ چھوڑ دینے والا
اس دُھند سے پرے اک کہکشاں بستی ہے
ان لوگوں کے لیے
لڑکیاں بہت سوچتی ہیں
جو سانسیں ختم ہونے کو ہیں
انہیں کوئی ہماری جگہ جی لینے کی خواہش کرتا
تو ہم اسی وقت خوشی سے مر جاتیں
وقت کی ڈرپ سے بہتا پانی
خاموشی کی اوک میں بھر کر
ہر شے کہاں لگائی ہے بکنے کے واسطے
کچھ کو رکھا گیا یہاں سجنے کے واسطے
چھوڑا کہاں؟ رقیب کو تحفے میں دے دیا
اتنے جتن کیے جسے رکھنے کے واسطے
ہر رُت اسے گلے سے لگا کر چھلک پڑی
گھر میں جو پیڑ لگ گیا کٹنے کے واسطے
مجھ سے نہیں ہو سکا
آنسوؤں سے کوئی گُلدستہ خریدا جاتا
اور اسے انتظار کی دُھوپ لگوا کر
ساحل کی ریت سے سجایا جاتا
کوئی لفظ ایسا نہیں ملا
جو بِن بولے تمہیں میرا بنا دیتا
تمہیں یاد کرنے کو
تمہیں یاد کرنے کو
میرے پاس راتیں ہیں
جنہیں تمہارے انتظار سے
بچا ہوا سمجھ کر مزید سیاہ لکھ دیا گیا
تمہیں یاد کرنے کو
کیا تم وہ اداسی دُور کر سکتے ہو
جو سارے آئینے توڑ دینے کے بعد
دیواروں میں گُھس جاتی ہے
کیا تم وہ دُھواں باہر نکال سکتے ہو
جو ساری تصاویر جلانے کے بعد
حلق میں بھر جاتا ہے
ہمسفر
ہمسفر
تُو کہاں تھا؟
ننگے پیروں سے بھاگی ہوئی ایک لڑکی
جو چھت پہ گئی تھی
ڈور کٹنے کو تھی
On Death Bed
موت ہمیں
گلیوں گلیوں
ڈھونڈتی رہے گی
اور ہم اس سے آنکھ مچولی کھیلتے
بہار کے بچے کُھچے لمحے
گزارنے کی سعی میں
یہ بھوک ہے
یہ تشنگی نہیں ہے یا خدا
یہ بھوک ہے
یہ چار سُو جو کھیل ہے
یہ آگ ہے
جو بستیوں میں دردِ دل کے واسطے
اذنِ جنگ
غصے میں شراب
تم نے پی ہے
اور مری رگیں
تمہاری ناراضی سے کٹی پڑی ہیں
خواہشوں کا لہو
نابلد نظم
تم نے نہیں دیکھا
کہ تمہاری بے التفاتی نے
تکلفات کو جنم دے دیا
تم نے نہیں سوچا
کہ تمہاری خاموشی نے