Showing posts with label فاطمہ مہرو. Show all posts
Showing posts with label فاطمہ مہرو. Show all posts

Monday, 12 June 2023

وہ غم کے استعارے ہیں

 وہ غم کے استعارے ہیں


عزادارو

کوئی بھی درد

ان کے صبر سے سچا نہیں

کسی بھی خون کا رنگ

وہاں بیتی ہوئی شاموں سے تو

Sunday, 17 July 2022

جل رہا ہے دشت تنہا بلبلا پانی میں ہے

 جل رہا ہے دشت تنہا، بلبلا پانی میں ہے

میری مٹی آگ میں ہے اور ہوا پانی میں ہے

کر رہے ہیں روشنی دونوں برابر ساتھ میں

چاند تنہا ہی کھڑا ہے، اور دیا پانی میں ہے

یہ جہاں اپنی زمین و آسماں کے بیچ میں

بیٹھنا بھی چاہتا ہے، اور کھڑا پانی میں ہے

Sunday, 9 January 2022

عورتوں کا خدا ہی نہیں ہے

 عورتوں کا خدا


اب تو آ جا خدا

لوگ کہنے لگے ہیں

عورتوں کا خُدا ہی نہیں ہے

نارسائی کی بدبو

بے وفائی پہ مبنی تعفّن کی لہریں

Saturday, 8 January 2022

درد راستہ نہیں دکھاتا یہ اندھا ہوتا ہے

 گہری دھند


درد راستہ نہیں دکھاتا، یہ اندھا ہوتا ہے

دُھند کے عین درمیان لے جا کر

ہاتھ چھوڑ دینے والا

اس دُھند سے پرے اک کہکشاں بستی ہے

ان لوگوں کے لیے

Sunday, 22 August 2021

لڑکیاں بہت سوچتی ہیں

 لڑکیاں بہت سوچتی ہیں


جو سانسیں ختم ہونے کو ہیں

انہیں کوئی ہماری جگہ جی لینے کی خواہش کرتا

تو ہم اسی وقت خوشی سے مر جاتیں

وقت کی ڈرپ سے بہتا پانی

خاموشی کی اوک میں بھر کر

Saturday, 17 July 2021

ہر شے کہاں لگائی ہے بکنے کے واسطے

 ہر شے کہاں لگائی ہے بکنے کے واسطے

کچھ کو رکھا گیا یہاں سجنے کے واسطے

چھوڑا کہاں؟ رقیب کو تحفے میں دے دیا

اتنے جتن کیے جسے رکھنے کے واسطے

ہر رُت اسے گلے سے لگا کر چھلک پڑی

گھر میں جو پیڑ لگ گیا کٹنے کے واسطے

Saturday, 10 July 2021

شرمندہ ہوں مجھ سے ایسا نہیں ہو سکا

 مجھ سے نہیں ہو سکا


آنسوؤں سے کوئی گُلدستہ خریدا جاتا

اور اسے انتظار کی دُھوپ لگوا کر

ساحل کی ریت سے سجایا جاتا

کوئی لفظ ایسا نہیں ملا

جو بِن بولے تمہیں میرا بنا دیتا

Friday, 9 July 2021

تمہیں یاد کرنے کو میرے پاس

 تمہیں یاد کرنے کو


تمہیں یاد کرنے کو

میرے پاس راتیں ہیں

جنہیں تمہارے انتظار سے

بچا ہوا سمجھ کر مزید سیاہ لکھ دیا گیا

تمہیں یاد کرنے کو

Tuesday, 27 April 2021

کیا تم وہ اداسی دور کر سکتے ہو

 کیا تم وہ اداسی دُور کر سکتے ہو

جو سارے آئینے توڑ دینے کے بعد 

دیواروں میں گُھس جاتی ہے

کیا تم وہ دُھواں باہر نکال سکتے ہو

جو ساری تصاویر جلانے کے بعد

حلق میں بھر جاتا ہے

Thursday, 18 March 2021

ہمسفر تو کہاں تھا

 ہمسفر


ہمسفر

تُو کہاں تھا؟

ننگے پیروں سے بھاگی ہوئی ایک لڑکی

جو چھت پہ گئی تھی

ڈور کٹنے کو تھی

Sunday, 14 March 2021

موت ہمیں گلیوں گلیوں ڈھونڈتی رہے گی

On Death Bed


موت ہمیں

گلیوں گلیوں

ڈھونڈتی رہے گی

اور ہم اس سے آنکھ مچولی کھیلتے

بہار کے بچے کُھچے لمحے

گزارنے کی سعی میں

Monday, 23 November 2020

یہ تشنگی نہیں ہے یاخدا یہ بھوک ہے

 یہ بھوک ہے


یہ تشنگی نہیں ہے یا خدا

یہ بھوک ہے

یہ چار سُو جو کھیل ہے

یہ آگ ہے

جو بستیوں میں دردِ دل کے واسطے

Sunday, 22 November 2020

اذن جنگ

 اذنِ جنگ


غصے میں شراب

تم نے پی ہے

اور مری رگیں

تمہاری ناراضی سے کٹی پڑی ہیں

خواہشوں کا لہو

Saturday, 21 November 2020

نابلد نظم

نابلد نظم


تم نے نہیں دیکھا

کہ تمہاری بے التفاتی نے

تکلفات کو جنم دے دیا

تم نے نہیں سوچا

کہ تمہاری خاموشی نے