Monday, 12 June 2023

وہ غم کے استعارے ہیں

 وہ غم کے استعارے ہیں


عزادارو

کوئی بھی درد

ان کے صبر سے سچا نہیں

کسی بھی خون کا رنگ

وہاں بیتی ہوئی شاموں سے تو

گہرا نہیں

الم کی داستانِ تطہیر

کہ جس نے زندگی کو کرب کے معنی سکھائے

جہاں پہ کوئی خیمہ

آگ میں پانی نہیں پیتا

عزادارو

تمہیں معلوم ہی کب ہے

اب اس کے بعد ہے

شرمندہ ساحلِ فرات

خدا پہ قرض ہے اب

کربلاؤں کا

کہ اس نے صبر کے

اور جبر کے

سارے اشارے چُن لیے

اور ان کے استعاروں سے

جہاں میں

غم کو کاندھا دے دیا


فاطمہ مہرو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

No comments:

Post a Comment