عشق لگتا تھا ہمیں کام وہ آسان کہ بس
کر کے دیکھا تو ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
آنکھ یہ اٹھ نہ سکی پھر کسی گُل کی جانب
میں نے دیکھا کسی چہرے پہ گُلستان کہ بس
کیوں مسیحا نہ اسے اپنا یہ دل جانے گا
مُردہ پیکر میں مِرے ڈال گیا جان کہ بس
مِرے سینے سے لپٹ کر کبھی اتنا بھی تو پوچھ
باقی دل میں ہے تِرے اب کوئی ارمان کہ بس
کس سے رکھیں گے مروّت کی توقع مولا
ہم نے دیکھے تِری دنیا میں وہ انسان کہ بس
بزم میں اس نے بصد شوق جو پوچھے تھے مزاج
تب سے یاروں میں ہے اپنی وہ عجب شان کہ بس
پھر کمیں گاہ پہ حسرت بھری نظریں اس کی
دل یہ کم بخت ہے اپنا وہی نادان کہ بس
چارہ گر نام سے ہے اب دل زخمی بیزار
چارہ گر تو نے دیا ہم کو وہ درمان کہ بس
کن نگاہوں کی پھری میری طرف سونامی
آ گیا بحرِ تمنا میں وہ طوفان کہ بس
سب کو منزل کا پتہ، سب کو خبر راہوں کی
اک امیں ہے ہمہ خلقت میں وہ حیران کہ بس
امین الرحمٰن چغتائی
No comments:
Post a Comment