سلم ڈاگز (Slum Dogs)
گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈا بلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چِڑاتا ہے
بہت سی ہڈیاں
سلم ڈاگز (Slum Dogs)
گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈا بلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چِڑاتا ہے
بہت سی ہڈیاں
نظم کے انگوٹھے کھلے ہیں
کوئی کہتا ہے خدا زمیں سے گیا نہیں
مگر کیا وجہ ہے کہ
شیطان بوڑھے نہیں ہوتے
ان کا طوطی بولتا ہے
ہاں ضعیف کام کرنے سے قاصر ہوتا ہے
خود رُسوا
میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو
جب لوگوں کی نفرت کے فُضلے کی کھاد ملی
تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیا
تو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی
فن قاتل ہے
فن کے بت کدے میں داخل ہو کر
اپنے رنگوں میں ہاتھ گھولنا
اپنی شاعری کی بنسی بجانا
اپنے افسانوں کے ہر ایک صنم سے مخاطب ہونا
اور سروں سے ہمکلام ہونا
محبت کا ابارشن
تمہیں پتا ہے محبت کیا ہے
نہیں
میں بتاتا ہوں تمہیں
پچھلے دسمبر تک یہ جذبہ مجھ میں اس قدر تھا کہ
میری قلب دانی میں محبت کا حمل ٹھہر گیا