Showing posts with label جمیلہ خدا بخش. Show all posts
Showing posts with label جمیلہ خدا بخش. Show all posts

Saturday, 9 October 2021

پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا

 پہلو کو تِرے عشق میں ویراں نہیں دیکھا

اس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھا

صورت کو مِری دیکھ کے حیرت ہے تمہیں کیا

تم نے تو مِرا حال پریشاں نہیں دیکھا

موسیٰ ہوئے بے ہوش تجلئ لقا سے

طالب تھے مگر جلوۂ جاناں نہیں دیکھا

Saturday, 2 October 2021

ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی

 ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی

کیا کہوں ہائے بے بسی دل کی

لطف دیکھو کہ وہ سنورتا ہے

لے کے ہاتھوں میں آرسی دل کی

اپنی حالت سنائے وہ کیوں کر

کون سمجھے گا فارسی دل کی

Friday, 1 October 2021

مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا

 مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا

جان دے کر وفا کا نام کیا

شیخ صنعا بنا ہے عشق میں دل

بُت کو سجدہ کیا، سلام کیا

زُلفِ پُر پیچ کھول کر رُخ پر

ایک جا لُطف صبح و شام کیا

Thursday, 29 July 2021

طاقت صبر ترے بے سر و ساماں میں نہیں

 طاقت صبر تِرے بے سر و ساماں میں نہیں

استقامت اسے اس عالمِ امکاں میں نہیں

ڈھونڈھتا کیا ہے اسے جا کے اِدھر اور اُدھر

کیا تِرے دل میں نہیں دیدۂ حیراں میں نہیں

کیا کہوں آہ میں تشبیہ نہیں دے سکتا

کوئی گل زخم جگر سا تو گلستاں میں نہیں

Tuesday, 27 July 2021

آج قابو میں یہ مزاج نہیں

 آج قابو میں یہ مزاج نہیں

بے خودی کا کوئی علاج نہیں

وقت آخر ہے میرا جاؤ طبیب

اب دوا کی تو احتیاج نہیں

عہد میں میرے شاہ خوباں کے

ستم و ظلم کا رواج نہیں

Monday, 5 July 2021

بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں

 بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں

ہمارے دیدۂ تر طالبِ دیدار کس کے ہیں

نہ کیوں ہم شکل بلبل مدح میں نغمہ سرا ہوں میں

تمہیں مجھ کو بتا دو پُھول سے رُخسار کس کے ہیں

کوئی بے خود کوئی با خود ہوئے تیری محبت میں

جو ہیں غافل وہ کس کے ہیں جو ہیں ہشیار کس کے ہیں