پہلو کو تِرے عشق میں ویراں نہیں دیکھا
اس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھا
صورت کو مِری دیکھ کے حیرت ہے تمہیں کیا
تم نے تو مِرا حال پریشاں نہیں دیکھا
موسیٰ ہوئے بے ہوش تجلئ لقا سے
طالب تھے مگر جلوۂ جاناں نہیں دیکھا
پہلو کو تِرے عشق میں ویراں نہیں دیکھا
اس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھا
صورت کو مِری دیکھ کے حیرت ہے تمہیں کیا
تم نے تو مِرا حال پریشاں نہیں دیکھا
موسیٰ ہوئے بے ہوش تجلئ لقا سے
طالب تھے مگر جلوۂ جاناں نہیں دیکھا
ایسی حالت نہ ہو کسی دل کی
کیا کہوں ہائے بے بسی دل کی
لطف دیکھو کہ وہ سنورتا ہے
لے کے ہاتھوں میں آرسی دل کی
اپنی حالت سنائے وہ کیوں کر
کون سمجھے گا فارسی دل کی
مرتے مرتے یہ ہم نے کام کیا
جان دے کر وفا کا نام کیا
شیخ صنعا بنا ہے عشق میں دل
بُت کو سجدہ کیا، سلام کیا
زُلفِ پُر پیچ کھول کر رُخ پر
ایک جا لُطف صبح و شام کیا
طاقت صبر تِرے بے سر و ساماں میں نہیں
استقامت اسے اس عالمِ امکاں میں نہیں
ڈھونڈھتا کیا ہے اسے جا کے اِدھر اور اُدھر
کیا تِرے دل میں نہیں دیدۂ حیراں میں نہیں
کیا کہوں آہ میں تشبیہ نہیں دے سکتا
کوئی گل زخم جگر سا تو گلستاں میں نہیں
آج قابو میں یہ مزاج نہیں
بے خودی کا کوئی علاج نہیں
وقت آخر ہے میرا جاؤ طبیب
اب دوا کی تو احتیاج نہیں
عہد میں میرے شاہ خوباں کے
ستم و ظلم کا رواج نہیں
بتائیں تم سے کیا ہم عاشق بیمار کس کے ہیں
ہمارے دیدۂ تر طالبِ دیدار کس کے ہیں
نہ کیوں ہم شکل بلبل مدح میں نغمہ سرا ہوں میں
تمہیں مجھ کو بتا دو پُھول سے رُخسار کس کے ہیں
کوئی بے خود کوئی با خود ہوئے تیری محبت میں
جو ہیں غافل وہ کس کے ہیں جو ہیں ہشیار کس کے ہیں