Saturday, 9 October 2021

پہلو کو ترے عشق میں ویراں نہیں دیکھا

 پہلو کو تِرے عشق میں ویراں نہیں دیکھا

اس دل کو کبھی خالی از ارماں نہیں دیکھا

صورت کو مِری دیکھ کے حیرت ہے تمہیں کیا

تم نے تو مِرا حال پریشاں نہیں دیکھا

موسیٰ ہوئے بے ہوش تجلئ لقا سے

طالب تھے مگر جلوۂ جاناں نہیں دیکھا

روتے ہیں گناہوں پہ وہی جن میں ہے ایماں

کافر کو کبھی ہم نے پشیماں نہیں دیکھا

دیکھا جو مِرا داغِ جگر ہنس کے وہ بولے

ایسا تو چراغ تہِ داماں نہیں دیکھا

اے دردِ جگر چین ذرا لینے دے مجھ کو

تجھ سا بھی کوئی جان کا خواہاں نہیں دیکھا

سر کٹ کے گِرا شوق سے قاتل کے قدم پر

ایسا بھی کوئی بندۂ احساں نہیں دیکھا

رونے پہ مِری تم کو تحیر یہ عبث ہے

کیا تم نے کبھی ابر کو گریاں نہیں دیکھا

دیکھی ہے بہت آپ نے آئینہ کی حیرت

عاشق کا مگر دیدۂ حیراں نہیں دیکھا

سرگشتہ وہ صحرائے مصیبت میں نہ ہو گا

جس نے تِری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

پوچھا جو جمیلہ سے تو وہ مجھ سے یہ بولے

دل سا تو کوئی دوسرا ایواں نہیں دیکھا


جمیلہ خدا بخش

No comments:

Post a Comment