ہم کو رعنائیِ جذبات نہیں راس آئی
تجھ سے وہ پہلی ملاقات نہیں راس آئی
کیا کہیں کتنی اذیت سے گزر جاتا تھا
جِس کو غمخوارئ حالات نہیں راس آئی
ہم کو اس درجہ محبت سے بلانے والے
تیری یہ نظرِ کرامات نہیں راس آئی
ہِجر کی آگ میں جلتے ہوئے پروانوں کو
یہ جنوں اور یہ برسات نہیں راس آئی
ہم محبت کے گنہگار و تہی داماں کو
عہدِ کم ظرف کی سوغات نہیں راس آئی
پاسدارانِ محبت کو کڑی دھوپ تلے
سرد جذبوں کی کوئی بات نہیں راس آئی
برف جسموں کو محبت کی حرارت دے کر
ہم کو اخلاص بھری رات نہیں راس آئی
ساحل منیر
No comments:
Post a Comment