چمچے کی دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے یہ چاہت میری
زندگی قاب کے چمچوں کی ہو صورت میری
کالی دولت سے مِرے گھر میں اجالا کر دے
اور غریبوں کی غریبی کو دوبالا کر دے
زندگی ہو مِری نیتاؤں کی صورت یا رب
ہو فقط اپنی غرض سے ہی محبت یا رب
چمچے کی دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے یہ چاہت میری
زندگی قاب کے چمچوں کی ہو صورت میری
کالی دولت سے مِرے گھر میں اجالا کر دے
اور غریبوں کی غریبی کو دوبالا کر دے
زندگی ہو مِری نیتاؤں کی صورت یا رب
ہو فقط اپنی غرض سے ہی محبت یا رب
شیطان کا فرمان
اٹھو مِرے محبوب مریدوں کو جگا دو
فنکار کو ابلیس کا پیغام سنا دو
جس ملک میں یاروں کو میسر نہ ہو وائن
اس ملک کا ہر خوشۂ انگور جلا دو
گرماؤ ادیبوں کا لہو وہسکی و رم سے
حسیناؤں کو مشورہ
حسینو! اگر تم کو ہے پاس عزت
تو سن لو سناتا ہوں شاعر کی فطرت
نہ مانو گی میری تو پُھوٹے گی قسمت
رہے گی مقدر میں ذِلت ہی ذِلت
جو اسرار کہتا ہے وہ مان لو تم
یہ کیسے فریبی ہیں یہ جان لو تم
لیڈر کی دعا
ابلیس مِرے دل میں وہ زندہ تمنا دے
جو غیروں کو اپنا لے اور اپنوں کو ٹرخا دے
بھاشن کے لیے دم دے اور توند کو پُھلوا دے
پایا ہے جو اوروں نے وہ مجھ کو بھی دلوا دے
پیدا دلِ ووٹر میں وہ شورشِ محشر کر
شاعر اعظم (نمکین کلام)
خبط مجھ کو شاعری کا جب ہوا
دس منٹ میں ساٹھ غزلیں کہہ گیا
سب سے رو رو کر کہا سن لو غزل
تاکہ میں ہو جاؤں پھر سے نارمل
رحم اپنوں کو نہ آیا جب ذرا
تو پریشاں ہو کے ہوٹل میں گیا