Showing posts with label ارم زہرا. Show all posts
Showing posts with label ارم زہرا. Show all posts

Wednesday, 20 September 2023

میں کیسے بھول سکتی ہوں حسیں منظر کراچی کے

 میں کیسے بھول سکتی ہوں حسیں منظر کراچی کے

مِری یادوں میں بستے ہیں وہ بحر و بر کراچی کے

مِری ہر ایک مشکل میں دلاسہ مجھ کو دیتے تھے

مِرے ہمراز ہیں اب تک وہ چارہ گر کراچی کے

مِری ہر ایک الجھن کا وہ کوئی حل بتاتے تھے

میں کیسے بھول سکتی ہوں سبھی دفتر کراچی کے

Monday, 21 August 2023

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

 ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

جو بے مثال ہے اس کی مثال کیا رکھتے

جو بے وفائی کو اپنا ہنر سمجھتا ہے

ہم اس کے آگے وفا کا سوال کیا رکھتے

ہمارا دل کسی جاگیر سے نہیں ارزاں

ہم اس کے سامنے مال و منال کیا رکھتے

Friday, 3 September 2021

مرا قصہ بھی آئے گا وفا کی داستانوں میں

 مِرا قصہ بھی آئے گا وفا کی داستانوں میں

مجھے مت ڈھونڈتے رہنا جفا کی داستانوں میں

میں بنتِ حوا اک دن میں بدل دوں گی زمانے کو

مجھے مت قید کر ناز و ادا کی داستانوں میں

نظر انداز مجھ کو کر نہیں سکتی کبھی دنیا

مجھے لکھا گیا ذہن رسا کی داستانوں میں

Saturday, 7 August 2021

سنو کلائی میں گجرے مرجھا سے گئے ہیں

 سنو

کلائی میں گجرے

مُرجھا سے گئے ہیں

آنکھوں میں کاجل

پھیل سا گیا ہے

لبوں پہ چُپ کا قُفل ہے

Saturday, 24 July 2021

کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

 کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

کبھی آسان لگتی ہوں، کبھی دشوار ہوتی ہوں

مِرے ہر روپ میں ہی دلکشی قدرت نے رکھی ہے

کبھی خوشبو کے ہالے میں گل و گلزار ہوتی ہوں

کبھی محفل میں روز و شب ہوئے ہیں تذکرے میرے

کبھی بن کر خبر میں زینتِ اخبار ہوتی ہوں

Tuesday, 25 May 2021

تیری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں

 تیری ڈگر کو، میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں

ہزار پھول تیری راہ گزر میں رکھتی ہوں

میں تیری یاد کو آنچل میں باندھ لائی ہوں

تِرے خیال کو زادِ سفر میں رکھتی ہوں

تُو ایک پل بھی جدا مجھ سے ہو نہیں سکتا

میں تیری یاد کو شام و سحر میں رکھتی ہوں

Monday, 26 April 2021

کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوں

 کتنی دور سے چلتے چلتے خواب نگر تک آئی ہوں

پاؤں میں میں چھالے سہہ کر اپنے گھر تک آئی ہوں

کالی رات کے سناٹے کو میں نے پیچھے چھوڑ دیا

شب بھر تارے گنتے گنتے دیکھ سحر تک آئی ہوں

لکھتے لکھتے لفظوں سے میری بھی کچھ پہچان ہوئی

ساری عمر کی پونجی لے کر آج ہنر تک آئی ہوں

Monday, 19 April 2021

دل ڈرا سہما سا ہے

 چیخ


دل ڈرا سہما سا ہے

ڈر کی عقوبت میں ٹھہرا سا ہے

موت کی خبروں کا گھیرا ہے

دنیا کے گرد عجب پھیرا ہے

دنیا خود میں سمٹ رہی ہے

Friday, 16 April 2021

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

 ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

جو بے مثال ہے اس کی مثال کیا رکھتے

جو بے وفائی کو اپنا ہنر سمجھتا ہے

ہم اس کے آگے وفا کا سوال کیا رکھتے

ہمارا دل کسی جاگیر سے نہیں ارزاں

ہم اس کے سامنے مال و منال کیا رکھتے

اسے کہنا محبت دل کے تالے توڑ دیتی ہے

 اسے کہنا محبت دل کے تالے توڑ دیتی ہے

اسے کہنا محبت دو دلوں کو جوڑ دیتی ہے

اسے کہنا محبت نام ہے روحوں کے ملنے کا

اسے کہنا محبت نام ہے زخموں کے سلنے کا

اسے کہنا محبت تو دلوں میں روشنی بھر دے

اسے کہنا محبت پتھروں کو موم سا کر دے

Wednesday, 3 February 2021

کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی

 کیسے بناؤں ہاتھ پر تصویر خواب کی

مجھ کو ملی نہ آج تک تعبیر خواب کی

آنکھوں سے نیند روٹھ کے جانے کدھر گئی

کٹتی نہیں ہے رات بھر زنجیر خواب کی

جس شہر میں ہو خواب چرانے کی واردات

کیسے کروں وہاں پہ میں تشہیر خواب کی