میں کیسے بھول سکتی ہوں حسیں منظر کراچی کے
مِری یادوں میں بستے ہیں وہ بحر و بر کراچی کے
مِری ہر ایک مشکل میں دلاسہ مجھ کو دیتے تھے
مِرے ہمراز ہیں اب تک وہ چارہ گر کراچی کے
مِری ہر ایک الجھن کا وہ کوئی حل بتاتے تھے
میں کیسے بھول سکتی ہوں سبھی دفتر کراچی کے