Saturday, 24 July 2021

کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

 کبھی تعمیر ہوتی ہوں کبھی مسمار ہوتی ہوں

کبھی آسان لگتی ہوں، کبھی دشوار ہوتی ہوں

مِرے ہر روپ میں ہی دلکشی قدرت نے رکھی ہے

کبھی خوشبو کے ہالے میں گل و گلزار ہوتی ہوں

کبھی محفل میں روز و شب ہوئے ہیں تذکرے میرے

کبھی بن کر خبر میں زینتِ اخبار ہوتی ہوں

کبھی میرے اشاروں پر بدل جاتی ہیں تدبیریں

کبھی طاقت کے ایوانوں کا اک ہتھیار ہوتی ہوں

میری یہ عمر گزری ہے یونہی گرداب سے لڑتے

کبھی کشتی بچانے کے لیے پتوار ہوتی ہوں

کبھی میں اپنی سوچوں میں مگن رہتی ہوں روز و شب

کبھی میں اپنے دلبر کے لیے غمخوار ہوتی ہوں

ارم سن کر جسے اِس زندگی پر پیار آتا ہے

اسی آواز پر میں روز ہی بیدار ہوتی ہوں


ارم زہرا

No comments:

Post a Comment