Showing posts with label خالد نقشبندی. Show all posts
Showing posts with label خالد نقشبندی. Show all posts

Monday, 3 June 2024

جس بھکاری کو کیا آپ کی رحمت نے نہال

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس بھکاری کو کیا، آپ کی رحمت نے نہال

بخدا، اُس کے قدم چومتا ہے اوجِ کمال

اس توجہ کے تصدق، ہے اُنہیں کتنا خیال

سینکڑوں غم ہیں، مگر پھر بھی نہیں کوئی ملال

سوچتا رہتا ہوں ہر وقت، وہ کیسے ہوں گے

ڈوبنے دیتا نہیں جن کا مصیبت میں خیال

Wednesday, 7 February 2024

دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل ٹھکانہ میرے حضورﷺ کا ہے

یہ جلوہ خانہ میرے حضور کا ہے

ایک پل میں ہزاروں عالم میں

آنا جانا میرے حضور کا ہے

نعمتیں سب وہی کھلاتے ہیں

دانہ دانہ میرے حضور کا ہے

Sunday, 31 December 2023

کر اہتمام بھی ایماں کی روشنی کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کر اہتمام بھی ایماں کی روشنی کے لیے

درود شرط ہے ذکرِ محمدیﷺ کے لیے

تُلا ہوا ہے کرم بندہ پرورِی کے لیے

کُشادہ دامنِ رحمت ہے ہر کسی کے لیے

نہیں ہے حُسنِ عمل پاس آنسوؤں کے سِوا

چلا ہوں لے کے یہ موتی درِ نبیؐ کے لیے

Sunday, 17 December 2023

رشتے تمام توڑ کے سارے جہاں سے ہم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رشتے تمام توڑ کے سارے جہاں سے ہم

وابستہ ہو گئے ہیں تیرےﷺ آستاں سے ہم

ہر رُخ سے ہر جگہ تھی مصائب کی روشیں

اُنﷺ کا کرم نہ ہوتا تو بچتے کہاں سے ہم

ہم ہیں غلام، اُنﷺ کی غلامی پہ ناز ہے

پہچانے جائیں گے اسی نام و نشاں سے ہم

Sunday, 30 July 2023

اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی

جیسے میرے سرکارؐ ہیں ایسا نہیں کوئی

تم سا تو حسیں آنکھ نے دیکھا نہیں کوئی

یہ شان لطافت ہے کہ سایہ نہیں کوئی

اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکارؐ کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

Monday, 26 June 2023

چلو دیار نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر

بہار لوٹیں گے ہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر

نہ اُن کے جیسا سخی ہے کوئی نہ اُن کے جیسا غنی ہے کوئی

وہ بے نواؤں کو ہر جگہ سے نوازتے ہیں بلا بلا کر

جو شاہکار ان کی یاد کے ہیں امانتاً عشق نے دیے ہیں

چراغِ منزل بنیں گے اک دن رکھو وہ آنسو بچا بچا کر

Monday, 10 October 2022

منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


منگتے ہیں کرم انؐ کا سدا مانگ رہے ہیں

دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں

ہر نعمتِ کونین ہے دامن میں ہمارے

ہم صدقۂ محبوبِؐ خدا مانگ رہے ہیں

اے دردِ محبت ابھی کچھ اور فزوں ہو

دیوانے تڑپنے کی ادا مانگ رہے ہیں

Thursday, 22 September 2022

سرور رہتا ہے کیف دوام رہتا ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سُروُر رہتا ہے کیفِ دوام رہتا ہے

لبوں پہ میرے درودﷺ و سلام رہتا ہے

بری ہیں نارِ جہنم سے خدا کی قسم

وہ جس کو ذکرِ محمدﷺ سے کام رہتا ہے

جو ایک بار انہیںﷺ دیکھ لے مقدر سے

تمام عمر انہیںﷺ کا غلام رہتا ہے

Saturday, 10 September 2022

ملا ہے عشق محمد سے یہ وقار مجھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مِلا ہے عشقِ محمدﷺ سے یہ وقار مجھے

کہ اب گدا نظر آتے ہیں شہریار مجھے

یہاں خیال ہے میرا نہ دل نہ دل کا قرار

بُلا ہی لیجیے آقائے نامدارﷺ مجھے

جہاں کہیں مِری گرداب میں گِھری کشتی

حضورﷺ ہی کے کرم نے کیا ہے پار مجھے

Monday, 8 August 2022

لبوں پہ میرے درود و سلام رہتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سرور رہتا ہے، کیفِ دوام رہتا ہے

لبوں پہ میرے درود و سلام رہتا ہے

بَری ہیں نارِ جہنم سے خدا کی قسم

وہ جس کو ذکرِ محمدؐ سے کام رہتا ہے

جو ایک بار انہیںؐ دیکھ لے مقدر سے

تمام عمر انہیںﷺ کا غلام رہتا ہے

Thursday, 27 January 2022

نوازے گئے ہم کچھ ایسی ادا سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نوازے گئے ہم کچھ ایسی ادا سے

غنی بن کے اٹھے درِ مصطفٰیؐ سے

طلب سے سوا بھیک دیتے ہیں آقاﷺ

بہت سارے ہے ان کو ہر بے نوا سے

غم مصطفٰیﷺ حاصل زندگی ہے

مِری زندگی ہے غم مصطفٰیﷺ سے

Sunday, 19 December 2021

زباں محو ثنا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


زباں محو ثناء ہے گنبدِ خضرا کے سائے میں

مؤدب التجا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

ہم اپنا دامنِ مقصود بھر لائے مرادوں سے

ہمیں سب کچھ ملا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

کلام پاک دیتا ہے گواہی اس حقیقت کی

مقدر جاگتا ہے گنبد خضرا کے سائے میں

Saturday, 18 December 2021

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کوئی سلیقہ ہے آرزو کا، نہ بندگی میری بندگی ہے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقاؐ کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں

تمہی سے مانگیں گے تم ہی دو گے، تمہارے در سے ہی لو لگی ہے

عمل کی میرے اساس کیا ہے، بجز ندامت کے پاس کیا ہے

رہے سلامت بس اُنؐ کی نسبت، میرا تو بس آسرا یہی ہے

Friday, 26 March 2021

غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں

 وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین


غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں

جب کرم ہوتا ہے, حالات بدل جاتے ہیں

انؐ کی رحمت ہے خطا پوش گنہ گاروں کی

کھوٹے سِکے سرِ بازار بھی چل جاتے ہیں

اسمِ احمدﷺ کا وظیفہ ہے ہر اک غم کا علاج

لاکھ خطرے ہوں اسیؐ نام سے ٹل جاتے ہیں

خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہو گا

 وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین


خاک سورج سے اندھیروں کا ازالا ہو گا

آپﷺ آئیں تو میرے گھر میں اُجالا ہو گا

حشر میں ہو گا وہ سرکارؐ کے جھنڈے کے تلے

میرے سرکارﷺ کا جو چاہنے والا ہو گا

عشقِِ سرکارﷺ کی اک شمع جلا لو دل میں

بعد مرنے کے لحد میں بھی اُجالا ہو گا

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

 وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین


یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے

دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے

ملتی نہ اگر بھیگ حضورؐ آپ کے در سے

اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے

بے دام ہی بِک جائیں گے دربارِِ نبیﷺ میں

اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

Saturday, 4 August 2012

قربان میں ان کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں

وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین

قربان میں اُنؐ کی بخشِش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
بِن مانگے دیا اور اتنا دیا، دامن میں ہمارے سمایا نہیں
آواز، کَرم دیتا ہی رہا، تھک ہار گئے لینے والے
منگتوں کی ہمیشہ لاج رکھی، محرُوم کوئی لوٹایا نہیں
رحمت کا بھرم بھی تُمؐ سے ہے، شفقت کا بھرم بھی تُمؐ سے ہے
ٹھکرائے ہوئے انساں کو بھی تُمؐ نے تو کبھی ٹھکرایا نہیں

ہے تیری عنایات کا ڈیرا میرے گھر میں

وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین

ہے تیریؐ عنایات کا ڈیرا میرے گھر میں
سب تیراؐ ہے کچھ بھی نہیں میرا میرے گھر میں
جاگا تیریؐ نِسبت سے یہ تارِیک مُقدّر
آیا تیرےؐ آنے سے سویرا میرے گھر میں
مِدحت نے تیریؐ مجھ کو یہ اعزاز دیا ہے
ہے سارے اُجالوں کا بسیرا میرے گھر میں