Monday, 10 October 2022

منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


منگتے ہیں کرم انؐ کا سدا مانگ رہے ہیں

دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں

ہر نعمتِ کونین ہے دامن میں ہمارے

ہم صدقۂ محبوبِؐ خدا مانگ رہے ہیں

اے دردِ محبت ابھی کچھ اور فزوں ہو

دیوانے تڑپنے کی ادا مانگ رہے ہیں

یوں کھو گئے سرکارؐ کے الطاف و کرم میں

یہ بھی تو نہیں ہوش کہ کیا مانگ رہے ہیں

اسرار کرم کے فقط انؐ پر ہی کھلے ہیں

جو تیرے وسیلے سے دعا مانگ رہے ہیں

سرکارؐ کا صدقہ میرے سرکارؐ کا صدقہ

محتاج و غنی شاہ و گدا مانگ رہے ہیں

اس دورِ ترقی میں بھی ذہنوں کے اندھیرے

خورشیدِ رسالتﷺ کی ضیا مانگ رہے ہیں

یہ مان لیا ہے کہ تیرا درد ہے درماں

طالب ہیں شفا کے نہ دوا مانگ رہے ہیں

ہم کو بھی ملے دولتِ دیدار کا صدقہ

دیدار کی جرأت بھی شہاؐ مانگ رہے ہیں

کم مانگ رہے ہیں نہ سوا مانگ رہے ہیں

جیسا ہے غنی ویسی عطا مانگ رہے ہیں

سرکارؐ سے سرکارؐ کو مانگا نہیں جاتا

اتنی بڑی سرکارؐ سے کیا مانگ رہے ہیں

دامانِ عمل میں کوئی نیکی نہیں خالد

بس نعتِ محمدﷺ کا صلہ مانگ رہے ہیں


خالد محمود خالد

خالد محمود نقشبندی

No comments:

Post a Comment