Monday, 10 October 2022

کہانی بات کرتی ہے فسانہ بات کرتا ہے

 کہانی بات کرتی ہے، فسانہ بات کرتا ہے

فقط یہ دل ہی چپ ہے اک زمانہ بات کرتا ہے

کبھی ہم سے کسی کا مسکرانا بات کرتا ہے

کبھی چھپ کر کوئی دردِ یگانہ بات کرتا ہے

مِرے دل پر کبھی تم ہاتھ رکھو تو یہ جانو بھی

کوئی کیسے کسی سے والہانہ بات کرتا ہے

مِرے بچپن میں جو بکھرا مِرے اپنوں کے ہاتھوں سے

خیالوں میں ابھی تک وہ ٹھکانہ بات کرتا ہے

اسے بٹنا تھا، سو بٹتا گیا حسبِ ضرورت وہ

مگر آنکھوں میں اک پورا فسانہ بات کرتا ہے

سسکتا ہے کہیں پلکوں پہ اک ٹوٹا ہوا تارا

جب آنکھوں سے کوئی سپنا سہانا بات کرتا ہے

بھلا دیتا ہے اک پل میں ہی سارے رکھ رکھاؤ کو

تِرے دل سے جو میرا دل دیوانہ بات کرتا ہے

جو تیری یاد کے تیروں سے ہوتا ہے جگر چھلنی

تو ان کی زد پہ آیا ہر نشانہ بات کرتا ہے

نگاہیں پھیر لیتے ہیں وہ مجھ کو دیکھ کر بشریٰ

مگر اک روگ آنکھوں میں پرانا بات کرتا ہے


بشریٰ فرخ

No comments:

Post a Comment