وا رفتگان ز کویِ تو ہرگاه می روند
جان می دہند ہر قدم و راه می روند
وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں
ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں
ناچار ہر سحر ز درت بی کسانِ عشق
در دیده ہا سرشک و بہ لب آه می روند
وا رفتگان ز کویِ تو ہرگاه می روند
جان می دہند ہر قدم و راه می روند
وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں
ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں
ناچار ہر سحر ز درت بی کسانِ عشق
در دیده ہا سرشک و بہ لب آه می روند
خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے
خدا مجھ سے ناراض ہو کر کہیں چال گیا ہے
خدا کو کہیں اغوا کرنے والے نہ اٹھا لے گئے ہوں
خدا کو کہیں بیگار میں نہ پکڑ لیا گیا ہو
خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے
میں نے خدا کے درخت سے ایک شاخ توڑ لی تھی
محبت کوئی نمایاں نشان نہیں
جس سے لاش کی شناخت میں آسانی ہو
جب تک تم محبت کو دریافت کر سکو
وہ وین روانہ ہو چکی ہو گی
جو ان لاشوں کو لے جاتی ہے
جن پر کسی کا دعویٰ نہیں
اگر کوئی پوچھے
جو لوگ دوسروں کے خداؤں سے
اپنی دعائیں قبول کرانا چاہے ہیں
وہ اپنی دائیں ایڑی میں گڑنے والی کیل کی چبھن
بائیں میں محسوس نہیں کر سکتے
بعض لوگوں کو خدا ورثے میں ملتا ہے
زندگی ہمارے لیے کتنا آسان کر دی گئی ہے
ہم کسی بھی رعایتی فروخت میں
کتابیں
کپڑے جوتے
حاصل کر سکتے ہیں
جیسا کہ گندم ہمیں
شہر وہی اچھے ہیں
جو لڑکیوں کے نام پر بسائے اور دیوتاؤں کے نام پر جلائے جائیں
لڑکیاں وہی خوبصورت ہیں
جو اُدھڑی ہوئی قبروں میں سے نکلے ہوئے ہاتھوں پر
فصل میں پہلی بار توڑے ہوئے پھَل رکھتی چلی جائیں
اگر شاعری محبت کی کفایت کرتی
کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے
وہی فسانۂ آشفتہ تر کہا اس نے
شراکت خس و شعلہ ہے کاروبار جنوں
زیاں کدے میں کس انجام پر کہا اس نے
اسے بھی ناز غلط کردۂ تغافل تھا
کہ خواب و خیمہ فروشی کو گھر کہا اس نے
ستم کی تیغ پہ یہ دستِ بے نیام رکھا
گلِ شکست سرِ شاخِ انتقام رکھا
میں دل کو اس کی تغافل سرا سے لے آیا
اور اپنے خانۂ وحشت میں زیرِ دام آیا
نگار خانۂ تسلیم کیا بیاباں تھا
جہاں پہ سیلِ خرابی کو میں نے تھام رکھا
اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے
شاید کہ مجھے شعلۂ در پیش جلا دے
اس دل کو کسی دستِ ادا سنج میں رکھنا
ممکن ہے یہ میزانِ کم و بیش جلا دے
کس قحط خور و خواب میں میں مول کے لایا
وہ نان کہ جو کاسۂ درویش جلا دے
بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا
فقط فراز نگین و نگاہ مجھ سے ہوا
چراغِ شب نے مجھے اپنے خواب میں دیکھا
ستارۂ سحری خوش نگاہ مجھ سے ہوا
گرفت کوزہ سے اک خاک میری سمت بڑھی
صف سراب کوئی سدِ راہ مجھ سے ہوا
کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا
زمیں بچھا کے ہوا اوڑھ کے بسر کرتا
گل و شگفت کو آپس میں دسترس دیتا
اور آئینے کے لیے آئینہ سپر کرتا
چراغ کہنہ ہٹاتا فصیل مردہ سے
گیاہ خام پہ شبنم دبیز تر کرتا
تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لا زوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
پھر ہم جب چاہیں گے
زمین کی گردش روک کر
رقص کرنے لگیں گے
ناچتے ہوئے آدمی کے دل کا نشانہ
مشکل سے لیا جا سکتا ہے
افضال احمد سيد
میں ڈرتا ہوں
میں ڈرتا ہوں
اپنے پاس کی چیزوں کو
چھو کر شاعری بنا دینے سے
روٹی کو میں نے چھوا
اور بھوک شاعری بن گئی