Showing posts with label افضال سید. Show all posts
Showing posts with label افضال سید. Show all posts

Tuesday, 23 April 2024

وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں

 وا رفتگان ز کویِ تو ہرگاه می ‌روند

جان می‌ دہند ہر قدم و راه می‌ روند

وا رفتگان تیرے کوچے سے جب گزرتے ہیں

ہر قدم پر جان دیتے ہیں اور راستہ چلتے ہیں

ناچار ہر سحر ز درت بی ‌کسانِ عشق

در دیده ہا سرشک و بہ لب آه می ‌روند

Wednesday, 15 March 2023

خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے

 خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے


خدا مجھ سے ناراض ہو کر کہیں چال گیا ہے

خدا کو کہیں اغوا کرنے والے نہ اٹھا لے گئے ہوں

خدا کو کہیں بیگار میں نہ پکڑ لیا گیا ہو

خدا مجھ سے ناراض ہو گیا ہے

میں نے خدا کے درخت سے ایک شاخ توڑ لی تھی

Wednesday, 20 July 2022

محبت کوئی نمایاں نشان نہیں

 محبت کوئی نمایاں نشان نہیں 

جس سے لاش کی شناخت میں آسانی ہو 

جب تک تم محبت کو دریافت کر سکو 

وہ وین روانہ ہو چکی ہو گی 

جو ان لاشوں کو لے جاتی ہے 

جن پر کسی کا دعویٰ نہیں 

Sunday, 3 July 2022

میں خدا کی قسط وقت پر ادا نہ کر سکا

اگر کوئی پوچھے


جو لوگ دوسروں کے خداؤں سے

اپنی دعائیں قبول کرانا چاہے ہیں

وہ اپنی دائیں ایڑی میں گڑنے والی کیل کی چبھن

بائیں میں محسوس نہیں کر سکتے

بعض لوگوں کو خدا ورثے میں ملتا ہے

Thursday, 10 February 2022

زندگی ہمارے لیے کتنا آسان کر دی گئی ہے

 زندگی ہمارے لیے کتنا آسان کر دی گئی ہے

ہم کسی بھی رعایتی فروخت میں

کتابیں

کپڑے جوتے

حاصل کر سکتے ہیں

جیسا کہ گندم ہمیں 

Friday, 26 February 2021

شہر وہی اچھے ہیں جو لڑکیوں کے نام پر بسائے

شہر وہی اچھے ہیں

جو لڑکیوں کے نام پر بسائے اور دیوتاؤں کے نام پر جلائے جائیں

لڑکیاں وہی خوبصورت ہیں

جو اُدھڑی ہوئی قبروں میں سے نکلے ہوئے ہاتھوں پر

فصل میں پہلی بار توڑے ہوئے پھَل رکھتی چلی جائیں

اگر شاعری محبت کی کفایت کرتی

Monday, 25 January 2021

کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

 کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

وہی فسانۂ آشفتہ تر کہا اس نے

شراکت خس و شعلہ ہے کاروبار جنوں

زیاں کدے میں کس انجام پر کہا اس نے

اسے بھی ناز غلط کردۂ تغافل تھا

کہ خواب و خیمہ فروشی کو گھر کہا اس نے

Sunday, 17 January 2021

ستم کی تیغ پہ یہ دست بے نیام رکھا

 ستم کی تیغ پہ یہ دستِ بے نیام رکھا

گلِ شکست سرِ شاخِ انتقام رکھا

میں دل کو اس کی تغافل سرا سے لے آیا

اور اپنے خانۂ وحشت میں زیرِ دام آیا

نگار خانۂ تسلیم کیا بیاباں تھا

جہاں پہ سیلِ خرابی کو میں نے تھام رکھا

Saturday, 16 January 2021

اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے

 اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے

شاید کہ مجھے شعلۂ در پیش جلا دے

اس دل کو کسی دستِ ادا سنج میں رکھنا

ممکن ہے یہ میزانِ کم و بیش جلا دے

کس قحط خور و خواب میں میں مول کے لایا

وہ نان کہ جو کاسۂ درویش جلا دے

Friday, 15 January 2021

بہت نہ حوصلہ عز و جاہ مجھ سے ہوا

 بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا

فقط فراز نگین و نگاہ مجھ سے ہوا

چراغِ شب نے مجھے اپنے خواب میں دیکھا

ستارۂ سحری خوش نگاہ مجھ سے ہوا

گرفت کوزہ سے اک خاک میری سمت بڑھی

صف سراب کوئی سدِ راہ مجھ سے ہوا

Thursday, 14 January 2021

کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا

 کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا

زمیں بچھا کے ہوا اوڑھ کے بسر کرتا

گل و شگفت کو آپس میں دسترس دیتا

اور آئینے کے لیے آئینہ سپر کرتا

چراغ کہنہ ہٹاتا فصیل مردہ سے

گیاہ خام پہ شبنم دبیز تر کرتا

Wednesday, 13 January 2021

تمہاری محبت اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے

 تمہاری محبت

اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے

صبح بارش ہو رہی تھی

جو تمہیں اداس کر دیتی ہے

اس منظر کو لا زوال بننے کا حق تھا

اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے

Tuesday, 12 January 2021

زمین کی گردش روک کر رقص کرنے لگیں گے

 پھر ہم جب چاہیں گے

زمین کی گردش روک کر

رقص کرنے لگیں گے

ناچتے ہوئے آدمی کے دل کا نشانہ

مشکل سے لیا جا سکتا ہے


افضال احمد سيد

Monday, 11 January 2021

میں ڈرتا ہوں اپنے پاس کی چیزوں کو چھو کر شاعری بنا دینے سے

میں ڈرتا ہوں


میں ڈرتا ہوں

اپنے پاس کی چیزوں کو

چھو کر شاعری بنا دینے سے

روٹی کو میں نے چھوا

اور بھوک شاعری بن گئی