Monday, 11 January 2021

میں ڈرتا ہوں اپنے پاس کی چیزوں کو چھو کر شاعری بنا دینے سے

میں ڈرتا ہوں


میں ڈرتا ہوں

اپنے پاس کی چیزوں کو

چھو کر شاعری بنا دینے سے

روٹی کو میں نے چھوا

اور بھوک شاعری بن گئی

انگلی چاقو سے کٹ گئی

اور خون شاعری بن گیا

گلاس ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا

اور بہت سی نظمیں بن گئیں

اپنے سے تھوڑی دور کی چیزوں کو

دیکھ کر شاعری بنا دینے سے

درخت کو میں نے دیکھا

اور چھاؤں شاعری بن گئی

چھت سے میں نے جھانکا

اور سیڑھیاں شاعری بن گئیں

عبادت خانے پر میں نے نگاہ ڈالی

اور خدا شاعری بن گیا

میں ڈرتا ہوں

اپنے سے دور کی چیزوں کو

سوچ کر شاعری بنا دینے سے

میں ڈرتا ہوں

تمہیں سوچ کر

دیکھ کر

چھو کر

شاعری بنا دینے سے


افضال احمد سيد

No comments:

Post a Comment