Showing posts with label عاشر وکیل. Show all posts
Showing posts with label عاشر وکیل. Show all posts

Friday, 21 January 2022

کہا خوش بخت ہوں میں کہ مرے جیون میں تم ہو نا

 تم ہو نا


کہا، خوش بخت ہوں میں کہ مِرے جیون میں تم ہو نا

مِری آنکھوں، مِری سانسوں، مِری دھڑکن میں تم ہو نا

کہا، جگ سے نہیں مجھ کو ذرا رغبت کہ تم ہو نا

مِری دولت، مِری قسمت، مِری چاہت کہ تم ہو نا

تھکا مجھ کو نہیں سکتا کوئی بھی غم کہ تم ہو نا

مِری پلکیں کبھی ہوں گی نہیں پُرنم کہ تم ہو نا

Tuesday, 21 December 2021

اپنے دل کی ایک اک حسرت کو گروی رکھ دیا

 اپنے دل کی ایک اک حسرت کو گِروی رکھ دیا

جب محبت کی تو ہر راحت کو گروی رکھ دیا

آدمی کے نام پر دھبہ ہے وہ، جس نے یہاں

خوف کھا کر کُفر سے مِلت کو گروی رکھ دیا

اپنی خواہش کا جہنم بھرتے بھرتے دوستو

ہم نے تو اسلاف کی جنت کو گروی رکھ دیا

Monday, 20 December 2021

ان کہی کچھ حسرتوں کے باب لکھتے رہ گئے

 ان کہی کچھ حسرتوں کے باب لکھتے رہ گئے

زندگی! تیری اُجڑتی مانگ بھرتے رہ گئے

وقت کے گرداب نے کچھ یوں مجھے بھٹکا دیا

میں نکل آیا ہوں آگے، خواب پیچھے رہ گئے

اس نے دنیاوی خوشی سے دل کا دامن بھر لیا

میرے ہاتھوں پر دھرے وعدے ادھورے رہ گئے

Wednesday, 17 March 2021

بہت خاموش رہ کر جو صدائیں مجھ کو دیتا تھا

 بہت خاموش رہ کر جو صدائیں مجھ کو دیتا تھا

بڑے سُندر سے جذبوں کی قبائیں مجھ کو دیتا تھا

کبھی جو درد کی آتش مجھے سُلگانے لگتی تھی

وہ اپنے سانس کی مہکی ہوائیں مجھ کو دیتا تھا

وہ اس کی چاہتیں بھی تو زمانے سے انوکھی تھیں

ریاضت خود وہ کرتا تھا، جزائیں مجھ کو دیتا تھا

Tuesday, 16 March 2021

جسم نہیں وہ روح کو گھیرے ہوتے ہیں

 جسم نہیں وہ روح کو گھیرے ہوتے ہیں

کچھ نادیدہ ایسے پنجرے ہوتے ہیں 

بینائی کی اس میں کوئی شرط نہیں

اندھی آنکھوں میں بھی سپنے ہوتے ہیں

بک جاتے ہیں بس دو میٹھے بولوں میں

سادہ دل بھی کتنے سستے ہوتے ہیں