Monday, 20 December 2021

ان کہی کچھ حسرتوں کے باب لکھتے رہ گئے

 ان کہی کچھ حسرتوں کے باب لکھتے رہ گئے

زندگی! تیری اُجڑتی مانگ بھرتے رہ گئے

وقت کے گرداب نے کچھ یوں مجھے بھٹکا دیا

میں نکل آیا ہوں آگے، خواب پیچھے رہ گئے

اس نے دنیاوی خوشی سے دل کا دامن بھر لیا

میرے ہاتھوں پر دھرے وعدے ادھورے رہ گئے

پھر ضروری کام نے، آنا مؤخر کر دیا

پھر کسی کا راستہ تکتے یہ رستے رہ گئے


عاشر وکیل

No comments:

Post a Comment