Monday, 20 December 2021

ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں

 ہم بھی کچھ کچھ خراب ہو جائیں

دور سارے حجاب ہو جائیں

چاند بادل کی اوٹ سے نکلے

غم یہ سارے نقاب ہو جائیں

کچھ تو اپنی نظر بھی آوارہ

کچھ اب وہ ماہتاب ہو جائیں

کون پھر ان سے دل کی بات کہے

جب وہ عالی جناب ہو جائیں

چُھو کے نکلیں جو تیرے ہونٹوں کو

لفظ سارے گلاب🎕 ہو جائیں

دھاندلی کر کے ہی سہی لیکن

ہم تِرا انتخاب ہو جائیں

وہ تو دیوی ہے حسن کی اشرف

اس کو دیکھے ثواب ہو جائیں


اشرف علی

No comments:

Post a Comment