نہ تسلی، نہ تشفی، نہ دعا کچھ بھی نہیں
کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ گلہ کچھ بھی نہیں
خُلق تھا، حفظِ مراتب تھا، تکلف تھا مگر
مُدتوں بعد ملے بھی تو ملا کچھ بھی نہیں
آئیے، بیٹھیۓ، فرمائیے، کہیۓ کے سوا
دیر تک بات ہوئی اور کہا کچھ بھی نہیں
نہ تسلی، نہ تشفی، نہ دعا کچھ بھی نہیں
کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ گلہ کچھ بھی نہیں
خُلق تھا، حفظِ مراتب تھا، تکلف تھا مگر
مُدتوں بعد ملے بھی تو ملا کچھ بھی نہیں
آئیے، بیٹھیۓ، فرمائیے، کہیۓ کے سوا
دیر تک بات ہوئی اور کہا کچھ بھی نہیں
حاصل معاش ہو تو مجھے فکرِ تن نہیں
مُفلس بدن کو شوقِ حسیں پیرہن نہیں
ایسی ہے اپنی زیست کہ جیتے ہیں بے نیاز
کچھ بھی نہیں ہے رشک، کسی سے جلن نہیں
ہر تارکِ جہاں کو "اناالحق" کہاں نصیب
ہر دشت کے غزال میں مُشک ختن نہیں
دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے
ہم خطاکار سدھارے بھی تو جا سکتے تھے
با خدا اپنے تصرف میں کہاں تھے ورنہ
دو جہاں آپ پہ وارے بھی تو جا سکتے تھے
ایک دل ہی تو گیا ہے غمِ جاناں میں فقط
آسماں، چاند، ستارے بھی تو جا سکتے تھے
چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو
جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو
اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو