Showing posts with label احمد خلیل. Show all posts
Showing posts with label احمد خلیل. Show all posts

Monday, 26 June 2023

نہ تسلی نہ تشفی نہ دعا کچھ بھی نہیں

 نہ تسلی، نہ تشفی، نہ دعا کچھ بھی نہیں

کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ گلہ کچھ بھی نہیں

خُلق تھا، حفظِ مراتب تھا، تکلف تھا مگر

مُدتوں بعد ملے بھی تو ملا کچھ بھی نہیں

آئیے، بیٹھیۓ، فرمائیے، کہیۓ کے سوا

دیر تک بات ہوئی اور کہا کچھ بھی نہیں

Tuesday, 6 June 2023

حاصل معاش ہو تو مجھے فکر تن نہیں

 حاصل معاش ہو تو مجھے فکرِ تن نہیں

مُفلس بدن کو شوقِ حسیں پیرہن نہیں

ایسی ہے اپنی زیست کہ جیتے ہیں بے نیاز

کچھ بھی نہیں ہے رشک، کسی سے جلن نہیں

ہر تارکِ جہاں کو "اناالحق" کہاں نصیب

ہر دشت کے غزال میں مُشک ختن نہیں

Tuesday, 22 March 2022

دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے

 دل کی مسند سے اتارے بھی تو جا سکتے تھے

ہم خطاکار سدھارے بھی تو جا سکتے تھے

با خدا اپنے تصرف میں کہاں تھے ورنہ

دو جہاں آپ پہ وارے بھی تو جا سکتے تھے

ایک دل ہی تو گیا ہے غمِ جاناں میں فقط

آسماں، چاند، ستارے بھی تو جا سکتے تھے

Tuesday, 15 February 2022

چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو

 چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو

تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر

زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار

دل نے کچھ ٹوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو