حاصل معاش ہو تو مجھے فکرِ تن نہیں
مُفلس بدن کو شوقِ حسیں پیرہن نہیں
ایسی ہے اپنی زیست کہ جیتے ہیں بے نیاز
کچھ بھی نہیں ہے رشک، کسی سے جلن نہیں
ہر تارکِ جہاں کو "اناالحق" کہاں نصیب
ہر دشت کے غزال میں مُشک ختن نہیں
مدت سے روبرو وہ مِرے بُت بنے ہوئے
جُنبش نہیں نگاہ میں، منہ پر سُخن نہیں
احمد خلیل
No comments:
Post a Comment