رہ کو گھسیٹا پاؤں سے اپنے چلا بہت
ہر نقشِ پا مٹا کے میں آگے بڑھا بہت
یہ زندگی ملی بھی تو کیا زندگی ملی
تھوڑا سا جرم اور ہے اس پر سزا بہت
کھویا رہا میں ایک دھنک جیسا خواب میں
مرغِ فریب خُوردہ و سرکردہ تھا بہت
میرے لیے تو یہ بھی سعادت کی بات ہے
مجھ کو سنائی کم دیا، اس نے کہا بہت
کس کس سے دو دو ہاتھ میں کرتا غنی یہاں
سائے سے اپنے دیر تلک میں لڑا بہت
غنی غیور
No comments:
Post a Comment