نہ ہو حیات کا حاصل تو بندگی کیا ہے
جو بے نیاز ہو سجدوں سے زندگی کیا ہے
سدا بہار چمن میں بھی گر نشیمن ہو
تِرے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہے
خدا کو مان کے خود کو خدا سمجھتا ہے
انا پرستی سراسر ہے،۔ بندگی کیا ہے
نہ ہو حیات کا حاصل تو بندگی کیا ہے
جو بے نیاز ہو سجدوں سے زندگی کیا ہے
سدا بہار چمن میں بھی گر نشیمن ہو
تِرے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہے
خدا کو مان کے خود کو خدا سمجھتا ہے
انا پرستی سراسر ہے،۔ بندگی کیا ہے
کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے
یاد اب اس کی بھلا دی جائے
دوڑتے جا رہے ہیں سب سپنے
کس کو راستے میں صدا دی جائے
پیچھے پردوں کے بہت کھیل چلا
اب یہ دیوار گرا دی جائے
مجھے ایک نظم لکھنی ہے
ان آنکھوں کے لیے
جو سپنے چھِن جانے کے بعد
سُولی چڑھائی گئی ہیں
مجھے ایک نظم لکھنی ہے
مقدس اجسام کے لیے
زخمی زخمی اندر میرا
ٹوٹا مجھ میں خنجر میرا
میرا آئینہ ہے زد پر
میرے ہاتھ میں پتھر میرا
اوڑھوں تن پر جلتا سورج
تپتا صحرا بستر میرا
تعاقب
وہ شعلہ بیاں مقرر ہے
جب الفاظ کی گرہیں کھول کر
انڈیلتا ہے کانوں میں
لوگ بے خود ہو جاتے ہیں
ہزاروں لوگوں کے درمیاں
کوئی مُرسل یا دُعا یا کوئی آیت بھی اُتار
لشکرِ عشق کے حصے کی حمایت بھی اتار
تُو محبت کا طرف دار، یقین است، یقیں
پر تُو بندے سے محبت کی روایت بھی اتار
کب کہاں کون سی منزل پہ اسے دھڑکا ہو
دل دیا ہے تو درِ دل پہ ہدایت بھی اتار
جفائیں تھیں پھر بھی سنبھلتا رہا
حکایت کا چہرہ نکھرتا رہا
دِیا انتظاری کا بجھ بھی گیا
مگر دِیپ اس دل کا جلتا رہا
نجانے رُکی رُوح کس موڑ پر
فقط جسم ہی ساتھ چلتا رہا
بارش میں بھی پیاسا تھا
شاید میرا سپنا تھا
تُو نے ڈھونڈا مقتل میں
میرا مجھ میں لاشہ تھا
آنکھیں میری ڈوب گئیں
کتنا گہرا چہرہ تھا
ملال و یاس سے نکلنا ہے
دُکھ کے احساس سے نکلنا ہے
ایک صحرا عبور کر آیا
اور اب پیاس سے نکلنا ہے
چاند ہے قید شب کے پنجرے میں
مجھے اماس سے نکلنا ہے
مقام اپنا دنیا میں ذیشان رکھ
جو نظروں سے تولے وہ میزان رکھ
محب تو خدا کا ہے خالص غلط
حبیب خدا پہ بھی ایمان رکھ
نا امیدی فقط کفر و الحاد ہے
اگر تُو ہے مومن تو ایقان رکھ
جنہیں تھا فخر نواب و نجیب ہوتے ہیں
اب ان کے گھر میں تماشے عجیب ہوتے ہیں
یزیدِ وقت کو جو برملا ہی ٹوک سکے
رقم وہ نام ہی زیرِ صلیب ہوتے ہیں
وہ جن کو تُو نے بڑا دل دیا ہے میرے خدا
تو کیوں یہ ہوتا ہے اکثر غریب ہوتے ہیں