Showing posts with label عابد کاظمی. Show all posts
Showing posts with label عابد کاظمی. Show all posts

Monday, 13 March 2023

نہ ہو حیات کا حاصل تو بندگی کیا ہے

 نہ ہو حیات کا حاصل تو بندگی کیا ہے

جو بے نیاز ہو سجدوں سے زندگی کیا ہے

سدا بہار چمن میں بھی گر نشیمن ہو 

تِرے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہے 

خدا کو مان کے خود کو خدا سمجھتا ہے 

انا پرستی سراسر ہے،۔ بندگی کیا ہے 

Sunday, 4 April 2021

کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے

 کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے

یاد اب اس کی بھلا دی جائے

دوڑتے جا رہے ہیں سب سپنے

کس کو راستے میں صدا دی جائے

پیچھے پردوں کے بہت  کھیل چلا

اب یہ دیوار گرا دی جائے

Saturday, 3 April 2021

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

 مجھے ایک نظم لکھنی ہے

ان آنکھوں کے لیے

جو سپنے چھِن جانے کے بعد

سُولی چڑھائی گئی ہیں

مجھے ایک نظم لکھنی ہے

مقدس اجسام کے لیے

زخمی زخمی اندر میرا

 زخمی زخمی اندر میرا

ٹوٹا مجھ میں خنجر میرا

میرا آئینہ ہے زد پر

میرے ہاتھ میں پتھر میرا

اوڑھوں تن پر جلتا سورج

تپتا صحرا بستر میرا

Friday, 2 April 2021

وہ شعلہ بیاں مقرر ہے

تعاقب


وہ شعلہ بیاں مقرر ہے

جب الفاظ کی گرہیں کھول کر

انڈیلتا ہے کانوں میں

لوگ بے خود ہو جاتے ہیں

ہزاروں لوگوں کے درمیاں

کوئی مرسل یا دعا یا کوئی آیت بھی اتار

 کوئی مُرسل یا دُعا یا کوئی آیت بھی اُتار

لشکرِ عشق کے حصے کی حمایت بھی اتار

تُو محبت کا طرف دار، یقین است، یقیں

پر تُو بندے سے محبت کی روایت بھی اتار

کب کہاں کون سی منزل پہ اسے دھڑکا ہو

دل دیا ہے تو درِ دل پہ ہدایت بھی اتار

جفائیں تھیں پھر بھی سنبھلتا رہا

 جفائیں تھیں پھر بھی سنبھلتا رہا

حکایت کا چہرہ نکھرتا رہا

دِیا انتظاری کا بجھ بھی گیا

مگر دِیپ اس دل کا جلتا رہا

نجانے رُکی رُوح کس موڑ پر

فقط جسم ہی ساتھ چلتا رہا

بارش میں بھی پیاسا تھا

 بارش میں بھی پیاسا تھا

شاید میرا سپنا تھا

تُو نے ڈھونڈا مقتل میں

میرا مجھ میں لاشہ تھا

آنکھیں میری ڈوب گئیں

کتنا گہرا چہرہ تھا

ملال و یاس سے نکلنا ہے

 ملال و یاس سے نکلنا ہے

دُکھ کے احساس سے نکلنا ہے

ایک صحرا عبور کر آیا

اور اب پیاس سے نکلنا ہے

چاند ہے قید شب کے پنجرے میں

مجھے اماس سے نکلنا ہے

مقام اپنا دنیا میں ذیشان رکھ

 مقام اپنا دنیا میں ذیشان رکھ

جو نظروں سے تولے وہ میزان رکھ

محب تو خدا کا ہے خالص غلط

حبیب خدا پہ بھی ایمان رکھ

نا امیدی فقط کفر و الحاد ہے

اگر تُو ہے مومن تو ایقان رکھ

Thursday, 19 November 2020

جنہیں تھا فخر نواب و نجیب ہوتے ہیں

 جنہیں تھا فخر نواب و نجیب ہوتے ہیں

اب ان کے گھر میں تماشے عجیب ہوتے ہیں

یزیدِ وقت کو جو برملا ہی ٹوک سکے

رقم وہ نام ہی زیرِ صلیب ہوتے ہیں

وہ جن کو تُو نے بڑا دل دیا ہے میرے خدا

تو کیوں یہ ہوتا ہے اکثر غریب ہوتے ہیں