کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے
یاد اب اس کی بھلا دی جائے
دوڑتے جا رہے ہیں سب سپنے
کس کو راستے میں صدا دی جائے
پیچھے پردوں کے بہت کھیل چلا
اب یہ دیوار گرا دی جائے
کب تلک فاصلوں کو ناپے دل
اب جدائی کو ندا دی جائے
درد سورج کی طرح اُگ آیا
دل کو چھاؤں کی ردا دی جائے
برف سی جم گئی ہے لفظوں پر
پھر سے شعلوں کو ہوا دی جائے
سڑنے لگتے ہیں تو بدن پگھلتا ہے
بوسیدہ جذبوں کو وداع دی جائے
عابد عباس کاظمی
No comments:
Post a Comment