Sunday, 4 April 2021

کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے

 کیوں نہ خود کو ہی سزا دی جائے

یاد اب اس کی بھلا دی جائے

دوڑتے جا رہے ہیں سب سپنے

کس کو راستے میں صدا دی جائے

پیچھے پردوں کے بہت  کھیل چلا

اب یہ دیوار گرا دی جائے

کب تلک فاصلوں کو ناپے دل

اب جدائی کو ندا دی جائے

درد سورج کی طرح اُگ آیا

دل کو چھاؤں کی ردا دی جائے

برف سی جم گئی ہے لفظوں پر

پھر سے شعلوں کو ہوا دی جائے

سڑنے لگتے ہیں تو بدن پگھلتا ہے

بوسیدہ جذبوں کو وداع دی جائے


عابد عباس کاظمی

No comments:

Post a Comment