Sunday, 4 April 2021

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

 بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

تمہارے عشق میں اب جا کے سرخرو ہوئے ہیں

ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک

یہ تذکرے جو مِری جان کو بہ کو ہوئے ہیں

وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب

شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں

تمہارے حسن کی تشبیب ہی کہی ہے ابھی

چراغ جلنے لگے پھول مشک بو ہوئے ہیں

عجیب لطف ہے اس ٹوٹنے بکھرنے میں

ہم ایک مشتِ غبار اب چہار سُو ہوئے ہیں

بجا ہے زندگی سے ہم بہت رہے ناراض

مگر بتاؤ خفا تم سے بھی کبھو ہوئے ہیں

میں تار تار ظفر ہو گیا ہوں جس کے سبب

فلک کے چاک اسی فکر سے رفو ہوئے ہیں


ظفر عجمی

No comments:

Post a Comment