Showing posts with label ساجد آہیر. Show all posts
Showing posts with label ساجد آہیر. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

میری شاعری سے شغف رکھنے والی

 وہ

میری شاعری سے 

شغف رکھنے والی

سنا ہے

سلیبس کی کتابوں سے

اکثر الجھی رہتی ہے


ساجد آہیر

Friday, 4 March 2022

کیسے جئے گا بھلا ہو کے تو مجھ سے جدا

تُو ہی میری شب ہے

صبح ہے

تُو ہی دن ہے میرا

تُو ہی میرا رب ہے

جہاں ہے

تُو ہی میری دنیا

Wednesday, 23 February 2022

وہ جب سے مسکرانے لگے ہیں

 وہ جب سے مسکرانے لگے ہیں

رنج سارے ہی ٹھکانے لگے ہیں

اس کا بدن جب سے چُھوا ہے

یہ بادل آگ برسانے لگے ہیں

ہاتھ جن سے دیپ تھے جلتے

وہ اب روٹیاں جلانے لگے ہیں

Tuesday, 22 February 2022

جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے

 جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو اپنے ہی مفادات سے ڈر لگتا ہے

اس کی ضد ہے؛ مجھے آ کے ملو شام ڈھلے

اور مجھے ایسی ہی ملاقات سے ڈر لگتا ہے

کیوں اشک بہاتے ہو میری قبر پہ آ کے

مجھے بے وقت کی برسات سے ڈر لگتا ہے

Monday, 21 February 2022

اب جو بھیگے جناب بارش میں

 اب جو بھیگے جناب بارش میں

ہو گی نیت خراب بارش میں

میں جو بہکا تو شور کیسا ہے

ہے اُمڈتا چناب بارش میں

پھر سے آ جاؤ ملنے جانِ جاں

نہیں رکھتے حساب بارش میں