وہ
میری شاعری سے
شغف رکھنے والی
سنا ہے
سلیبس کی کتابوں سے
اکثر الجھی رہتی ہے
ساجد آہیر
وہ
میری شاعری سے
شغف رکھنے والی
سنا ہے
سلیبس کی کتابوں سے
اکثر الجھی رہتی ہے
ساجد آہیر
تُو ہی میری شب ہے
صبح ہے
تُو ہی دن ہے میرا
تُو ہی میرا رب ہے
جہاں ہے
تُو ہی میری دنیا
وہ جب سے مسکرانے لگے ہیں
رنج سارے ہی ٹھکانے لگے ہیں
اس کا بدن جب سے چُھوا ہے
یہ بادل آگ برسانے لگے ہیں
ہاتھ جن سے دیپ تھے جلتے
وہ اب روٹیاں جلانے لگے ہیں
جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے
مجھ کو اپنے ہی مفادات سے ڈر لگتا ہے
اس کی ضد ہے؛ مجھے آ کے ملو شام ڈھلے
اور مجھے ایسی ہی ملاقات سے ڈر لگتا ہے
کیوں اشک بہاتے ہو میری قبر پہ آ کے
مجھے بے وقت کی برسات سے ڈر لگتا ہے
اب جو بھیگے جناب بارش میں
ہو گی نیت خراب بارش میں
میں جو بہکا تو شور کیسا ہے
ہے اُمڈتا چناب بارش میں
پھر سے آ جاؤ ملنے جانِ جاں
نہیں رکھتے حساب بارش میں