وہاں بھی کون تھا، جاتے تو یار کیا کرتے
عبور کرتے بھی دریا تو پار کیا کرتے
جو پاس تھا وہ محبت میں سب لُٹا بیٹھے
بچا ہی کیا تھا کسی سے اُدھار کیا کرتے
وضاحتیں اسے دیتے بھی ہم تو آخر کیوں
کہ اس کے دل پہ تھا گرد و غُبار کیا کرتے
تمام عُمر تو گُزری ہے تیرے کُوچے میں
یہاں سے اُٹھتے بھی گر خاکسار کیا کرتے
یہاں تو کچھ بھی نہیں چںد حسرتوں کے سوا
غریب خانے میں آتے تو یار کیا کرتے
غریبِ شہر تھے ہم اور امیرِ شہر تھے وہ
مِلاپ ہم سے سر رہ گُزار کیا کرتے
جو زخم دل پہ لگے وہ ابھی بھی تازہ تھے
جو اشک آنکھوں میں تھے ان کو یار کیا کرتے
نہ شہربانو تھی وہ، اور نہ شہریار تھے ہم
جو مِل بھی جاتے تو فاقوں میں پیار کیا کرتے
کسی کی قید میں اب تک جو سال بِیت گئے
انہیں بھی زندگی میں ہم شُمار کیا کرتے
جو مِل بھی جاتی رِہائی تو ہم کہاں جاتے
ہم اس کی قید سے آخر فرار کیا کرتے
ہر ایک بار وہ کرتے رہے فریب نعیم
ہم ان کی باتوں کا پھر اعتبار کیا کرتے
نعیم چشتی
No comments:
Post a Comment