لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے
یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے
بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا
شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے
تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی
وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے
وہ پائے عزم کیا جو تھک جائے راستے میں
وہ نقش نقشِ پا کیا جو دوام تک نہ پہنچے
اہلِ جنوں بڑھے تھے جب لے کے پرچمِ حق
کیا رُوم تک نہ پہنچے، کیا شام تک نہ پہنچے
وہ آدمی بھی کیا،۔ اُف ہو کے آدمی خود
امجد جو آدمی کے بھی مقام تک نہ پہنچے
امجد غزنوی
No comments:
Post a Comment