Sunday, 4 October 2026

لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

 لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے

ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے

ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے

ہم سلامت رہیں گے باہر سے

ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے

دل نہیں ہے ہمارے سینے میں

ایک چڑیا کا آشیانہ ہے

لاکھ کہتے رہو مذاق تھا یہ

آزمانا تو آزمانا ہے

سونپ دینی ہے زندگی اس کو

آخری بار مسکرانا ہے

میں بہت پہلے مر گیا تھا یار

یہ میرے بعد کا زمانہ ہے


مدثر شجاعت

No comments:

Post a Comment