لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے
تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے
ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے
ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے
ہم سلامت رہیں گے باہر سے
ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے
دل نہیں ہے ہمارے سینے میں
ایک چڑیا کا آشیانہ ہے
لاکھ کہتے رہو مذاق تھا یہ
آزمانا تو آزمانا ہے
سونپ دینی ہے زندگی اس کو
آخری بار مسکرانا ہے
میں بہت پہلے مر گیا تھا یار
یہ میرے بعد کا زمانہ ہے
مدثر شجاعت
No comments:
Post a Comment