Showing posts with label ریاض انور. Show all posts
Showing posts with label ریاض انور. Show all posts

Thursday, 24 March 2022

رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے

 رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے

یہاں جو لوگ رہِ اعتدال دیکھیں گے

قدم قدم پہ جو رستے کا حال دیکھیں گے

وہ چند گام ہے چلنا محال، دیکھیں گے

وہ نفرتوں کا یقیناً مآل دیکھیں گے

جھلستا باغ کو شعلہ مقال دیکھیں گے

Thursday, 17 March 2022

زیر لب آپ گنگنائے ہیں

 زیر لب آپ گنگنائے ہیں

دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں

سوچتا ہوں تِرے زمانے میں

کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں

موسمِ گل کی تنگ دامانی

پھول مانگے تھے خار پائے ہیں

Monday, 31 January 2022

ابھی تو زخم پرانے نہ بھول پائے ہیں

 ابھی تو زخم پرانے نہ بھول پائے ہیں

حضور پھر مِری وحشت پہ مسکرائے ہیں

یہ حسنِ ابرِ رواں، شعلہ ہائے لالہ و گل

تِرے جمال کی رعنائیوں کے سائے ہیں

وہیں وہیں پہ سنبھالا تِرے تصور نے

جہاں جہاں بھی قدم میرے ڈگمگائے ہیں

Wednesday, 5 January 2022

جھوٹا یہ پیار اوپری چاہت نہیں قبول

 جھوٹا یہ پیار اوپری چاہت نہیں قبول

اس باب میں کوئی بھی وضاحت نہیں قبول

سادہ ہوں میں ہے دل کو مِرے سادگی عزیز

دونوں کو خود نمائی کی عادت نہیں قبول

اپنا ضمیر بیچ کے شہرت اگر ملے

بیٹھے گی جھاگ بن کے وہ شہرت نہیں قبول

Tuesday, 4 January 2022

تو نیلے آکاش کی رانی سندر تیرا بھیس

 ہمسفر


تُو نیلے آکاش کی رانی، سُندر تیرا بھیس

بیٹھ کے اُڑن کھٹولے پر تُو گُھومے دیس بدیس

تیرے ہونٹوں کے پُھولوں سے مہکے یہ سنسار

تیرے میٹھے بول کہ جیسے پائل کی جھنکار

تیری زُلفوں کی خُوشبو اپنی باہیں پھیلائے

ساون کی بدلی کی صُورت نگری نگری جائے

Thursday, 2 December 2021

خلوص کا اک زجاج زہرا وفا حیا کا سراج زہرا

 عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا


خلوص کا اک زجاج زہراؑ

وفا، حیا کا سراج زہرا

عفیف تم، خیر بھی مجسم

ہو صبر کا امتزاج زہرا

عطا، کرم، جود، مہربانی

رہا تمہارا رواج زہرا

Monday, 24 May 2021

جب بھی آپ مجھے یاد آئے

 جب بھی آپ مجھے یاد آئے 

پھول نگاہوں میں لہرائے 

آپ ملے تو آنکھ بھر آئی 

آپ گئے تو غم گھر آئے 

دیوانوں کی بات ہی کیا ہے 

ایک ہنسائے ایک رلائے 

Monday, 10 May 2021

زیر لب آپ گنگنائے ہیں

 زیر  لب آپ گنگنائے ہیں 

دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں 

سوچتا ہوں تِرے زمانے میں 

کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں 

موسمِ گل کی تنگ دامانی 

پھول مانگے تھے خار پائے ہیں