رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے
یہاں جو لوگ رہِ اعتدال دیکھیں گے
قدم قدم پہ جو رستے کا حال دیکھیں گے
وہ چند گام ہے چلنا محال، دیکھیں گے
وہ نفرتوں کا یقیناً مآل دیکھیں گے
جھلستا باغ کو شعلہ مقال دیکھیں گے
رہیں گے شاد نہ رنج و ملال دیکھیں گے
یہاں جو لوگ رہِ اعتدال دیکھیں گے
قدم قدم پہ جو رستے کا حال دیکھیں گے
وہ چند گام ہے چلنا محال، دیکھیں گے
وہ نفرتوں کا یقیناً مآل دیکھیں گے
جھلستا باغ کو شعلہ مقال دیکھیں گے
زیر لب آپ گنگنائے ہیں
دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں
سوچتا ہوں تِرے زمانے میں
کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں
موسمِ گل کی تنگ دامانی
پھول مانگے تھے خار پائے ہیں
ابھی تو زخم پرانے نہ بھول پائے ہیں
حضور پھر مِری وحشت پہ مسکرائے ہیں
یہ حسنِ ابرِ رواں، شعلہ ہائے لالہ و گل
تِرے جمال کی رعنائیوں کے سائے ہیں
وہیں وہیں پہ سنبھالا تِرے تصور نے
جہاں جہاں بھی قدم میرے ڈگمگائے ہیں
جھوٹا یہ پیار اوپری چاہت نہیں قبول
اس باب میں کوئی بھی وضاحت نہیں قبول
سادہ ہوں میں ہے دل کو مِرے سادگی عزیز
دونوں کو خود نمائی کی عادت نہیں قبول
اپنا ضمیر بیچ کے شہرت اگر ملے
بیٹھے گی جھاگ بن کے وہ شہرت نہیں قبول
ہمسفر
تُو نیلے آکاش کی رانی، سُندر تیرا بھیس
بیٹھ کے اُڑن کھٹولے پر تُو گُھومے دیس بدیس
تیرے ہونٹوں کے پُھولوں سے مہکے یہ سنسار
تیرے میٹھے بول کہ جیسے پائل کی جھنکار
تیری زُلفوں کی خُوشبو اپنی باہیں پھیلائے
ساون کی بدلی کی صُورت نگری نگری جائے
عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا
خلوص کا اک زجاج زہراؑ
وفا، حیا کا سراج زہرا
عفیف تم، خیر بھی مجسم
ہو صبر کا امتزاج زہرا
عطا، کرم، جود، مہربانی
رہا تمہارا رواج زہرا
جب بھی آپ مجھے یاد آئے
پھول نگاہوں میں لہرائے
آپ ملے تو آنکھ بھر آئی
آپ گئے تو غم گھر آئے
دیوانوں کی بات ہی کیا ہے
ایک ہنسائے ایک رلائے
زیر لب آپ گنگنائے ہیں
دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں
سوچتا ہوں تِرے زمانے میں
کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں
موسمِ گل کی تنگ دامانی
پھول مانگے تھے خار پائے ہیں