Thursday, 17 March 2022

زیر لب آپ گنگنائے ہیں

 زیر لب آپ گنگنائے ہیں

دل میں لاکھوں خیال آئے ہیں

سوچتا ہوں تِرے زمانے میں

کیا کبھی ہم بھی مسکرائے ہیں

موسمِ گل کی تنگ دامانی

پھول مانگے تھے خار پائے ہیں

تیری محفل میں روشنی کے لیے

آنسوؤں کے دِیے جلائے ہیں


ریاض انور

No comments:

Post a Comment