Thursday, 17 March 2022

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

 دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے

تُو اپنے فیس کو ڈھانک کر نکلنا

نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے

تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے

ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے

ابھی تو شوق سے پھاڑا ہے دامن

ابھی تو بس ریہرسل ہو رہی ہے

یاد آنکھوں پہ چشمہ گیر کا ہے

مِری تصویر اوجھل ہو رہی ہے


اشفاق منصوری

No comments:

Post a Comment