Thursday, 17 March 2022

ستانا بھی نہیں آیا رلانا بھی نہیں آیا

 ستانا بھی نہیں آیا، رلانا بھی نہیں آیا 

کسی روٹھے ہوئے جی کو منانا بھی نہیں آیا

ذرا سا خواب ٹوٹا تھا ذرا سے ہم بھی ٹوٹے تھے 

انا کا زخم گہرا تھا، دکھانا بھی نہیں آیا

صدا اس کی لیے پھرتی ہے تنہا ریگزاروں میں 

جسے قسموں کو وعدوں کو نبھانا بھی نہیں آیا

اسے تو خیر آدابِ محبت کم ہی آتے ہیں 

مجھے فرحین کیوں مجھ کو منانا بھی نہیں آیا


فرحین چودھری 

No comments:

Post a Comment