Thursday, 17 March 2022

تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت

 تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت

دوستو آگے چڑھائی ہے بہت

کہہ رہی ہے آج بھی نہرِ فرات

ساتھ ہو تو ایک بھائی ہے بہت

روز اک تازہ امید اک تازہ رنج

ہم کو غربت راس آئی ہے بہت

بیٹھتا ہے شیخ کب رندوں کے پاس

اُس کو زعمِ پارسائی ہے بہت

دیس کی کایا پلٹنے کے لیے

ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت


باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment