Thursday, 17 March 2022

عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں

 عکس دیکھا تو لگا کوئی کمی ہے مجھ میں

آئینہ کہتا تھا موجود سبھی ہے مجھ میں

روشنی پھر تجھے درپیش ہے اک اور سفر

دور تک جائے گی جو آگ لگی ہے مجھ میں

کروٹیں لے کے سحر کرنے کی پرخار تھکن

کبھی تجھ میں ہے نمایاں تو کبھی ہے مجھ میں

کوئی احساس زیاں جاگ اٹھا ہے جیسے

ایک الجھی سی گرہ جب سے کھلی ہے مجھ میں

صبح تک جانے کہاں مجھ کو اڑا کر لے جائے

ایک آندھی جو سر شام چلی ہے مجھ میں


مصطفیٰ شہاب

No comments:

Post a Comment