Thursday, 17 March 2022

بے بسی ایسا گزارہ بھی گزارے ہوئے ہے

 بے بسی، ایسا گزارہ بھی گزارے ہوئے ہے

دھوپ میں لیٹی ہوئی ہاتھ پسارے ہوئے ہے

شکل در شکل ہیں شکلیں نہیں کھلتا ہرگز

کون بہروپ یہاں کونسا دھارے ہوئے ہے

غیرت اک پیراہنِ زیبِ بشر تھا جس کو

آج کا شخص سرِ راہ اتارے ہوئے ہے

حسنِ اخلاص نہ احساس نہ جذبہ نہ انا

اپنے ہی آپ کو اب آدمی مارے ہوئے ہے

راز کے پاس اگر کچھ ہے کرم ہے تیرا

اور جو بھی ہے تِرے نام پہ وارے ہوئے ہے


قاسم راز

No comments:

Post a Comment