مِرا اک صدی سے تو یار ہے، تیری خیر ہو
تیرے راستے میں غبار ہے، تیری خیر ہو
تیرے زرد چہرے پہ سرخ آنکھیں بتاتی ہیں
تجھے وحشتوں کا خمار ہے، تیری خیر ہو
میں تو ایک شخص سے دوستی نہ نبھا سکا
تُو تو سارے شہر کا یار ہے، تیری خیر ہو
تِرے رخ کی ساری چمک نچوڑے گا دیکھیو
یہ جنوں جو تجھ پہ سوار ہے، تیری خیر ہو
تجھے زندگی کی اذیتوں نے تھکا دیا
ابھی موت تجھ پہ ادھار ہے، تیری خیر ہو
حمزہ یعقوب
No comments:
Post a Comment