Thursday, 17 March 2022

اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

 اگرچہ مصلحت آمیز ہی ہے

کڑے لہجے سے بہتر خامشی ہے

نظر کی پیاس تو نظروں سے پوچھو

ہیں زیرِ آب پھر بھی تشنگی ہے

وہی چُھوتے ہیں اکثر آسماں کو

جبیں جن کی زمینوں پر جھکی ہے

ورق آہستگی سے کھولیے گا

بہت خستہ کتاب زندگی ہے

مراسم پہلے بھی اچھے نہیں تھے

مگر اب تو دلوں میں بے دلی ہے

مری بے چارگی پر ہنس رہا ہے

یہ میرا دوست ہے یا اجنبی ہے

تِری سرگوشیوں کا یہ اثر ہے

انا میں رچ گئی اک نغمگی ہے


نفیسہ سلطانہ انا

No comments:

Post a Comment