Thursday, 17 March 2022

وہ جن کی ڈگر ہے شاعرانہ

 وہ جن کی ڈگر ہے شاعرانہ

ان کا ہے مزاج عاشقانہ

وہ کتنا حقیقت آشنا ہے

رکھتا ہے نظر میں ہر فسانہ

دولت سے وفا کو تولتی ہے

دنیا کی نظر ہے تاجرانہ

دنیا کی روش کو جو بدل دے

صرف اس کو سمجھتا ہے زمانہ

ہم نے کی زمانے سے بغاوت

گایا ہے وفاوں کا ترانہ

گیتوں نے سجایا رتجگوں کو

تاروں نے اجالا شامیانہ

تب ہم پہ کھلی حقیقت اس کی

جب ہم پہ کھلا وہ محرمانہ

ازہر نے سبھی کو آزمایا

سب کی ہی نظر ہے عامیانہ


ازہر درانی

No comments:

Post a Comment