وہ جن کی ڈگر ہے شاعرانہ
ان کا ہے مزاج عاشقانہ
وہ کتنا حقیقت آشنا ہے
رکھتا ہے نظر میں ہر فسانہ
دولت سے وفا کو تولتی ہے
دنیا کی نظر ہے تاجرانہ
دنیا کی روش کو جو بدل دے
صرف اس کو سمجھتا ہے زمانہ
ہم نے کی زمانے سے بغاوت
گایا ہے وفاوں کا ترانہ
گیتوں نے سجایا رتجگوں کو
تاروں نے اجالا شامیانہ
تب ہم پہ کھلی حقیقت اس کی
جب ہم پہ کھلا وہ محرمانہ
ازہر نے سبھی کو آزمایا
سب کی ہی نظر ہے عامیانہ
ازہر درانی
No comments:
Post a Comment