گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے
بے کسی کا ہمنوا اب تک وہی سایا تو ہے
ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگر
ٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے
چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہے
دور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے
گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے
بے کسی کا ہمنوا اب تک وہی سایا تو ہے
ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگر
ٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے
چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہے
دور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے
بہت ہے ایک نظر
قدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہے
تِری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے
خزاں میں رہ کے بہاروں کی آرزو نہ کروں
جو زخم دل بھی مہک کر کھلے تو کیا کم ہے
ہزار چاک ہیں دامان زندگی کے مگر
جو ایک چاک گریباں سلے تو کیا کم ہے
وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے
سرور چاہئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے
یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہو
کبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے
اودھ کی شام، رفیقوں کو، مہ جبینوں کو
ہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے
چراغِ حسرت و ارماں بُجھا کے بیٹھے ہیں
ہر ایک طرح سے خود کو جلا کے بیٹھے ہیں
نہ کوئی راہ گزر ہے نہ کوئی ویرانہ
غمِ حیات میں سب کچھ لُٹا کے بیٹھے ہیں
جنوں کی حد ہے کہ ہوش و خِرد کی منزل ہے
خبر نہیں ہے کہاں آج آ کے بیٹھے ہیں
محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے
دل کو اپنے لاکھ سمجھایا کیے
یاس کی گہرائیوں میں ڈوب کر
زخمِ دل سے خود کو بہلایا کیے
تشنگی میں یاس و حسرت کے چراغ
غم کدے میں اپنے جل جایا کیے
اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں
کہنے کو آشیاں ہے مگر آشیاں نہیں
عشقِ ستم نواز کی دنیا بدل گئی
حسنِ وفا شناس بھی کچھ بدگماں نہیں
میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں
اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں
چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو
رسوائیوں کی اپنی کہیں انتہا نہ ہو
جوشِ وفا کا نام جنوں رکھ دیا گیا
اے درد آج ضبطِ فغاں سے سوا نہ ہو
یہ غم نہیں کہ تیرا کرم ہم پہ کیوں نہیں
یہ تو ستم ہے تیرا کہیں سامنا نہ ہو
جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا
وہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا
اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں
ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا
جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں
کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا
سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا
ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا
یوں تو ہم اہلِ جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیں
گمراہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا
میگساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہے
تشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا
دشمنِ جاں کوئی بنا ہی نہیں
اتنے ہم لائقِ جفا ہی نہیں
آزما لو کہ دل کو چین آئے
یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں
جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں
خوش وہ کیا ہوں جب خفا ہی نہیں
نروان
اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہے
ذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیں
ہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیں
دل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہے
پیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہے