Showing posts with label باقر مہدی. Show all posts
Showing posts with label باقر مہدی. Show all posts

Monday, 17 January 2022

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

 گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

بے کسی کا ہمنوا اب تک وہی سایا تو ہے

ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگر

ٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے

چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہے

دور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے

Wednesday, 18 August 2021

تری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے

 بہت ہے ایک نظر


قدم قدم پہ مجھے یہ خیال آتا ہے

تِری نظر کا سہارا ملے تو کیا کم ہے

خزاں میں رہ کے بہاروں کی آرزو نہ کروں

جو زخم دل بھی مہک کر کھلے تو کیا کم ہے

ہزار چاک ہیں دامان زندگی کے مگر

جو ایک چاک گریباں سلے تو کیا کم ہے

Monday, 17 May 2021

وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

 وہ رند کیا کہ جو پیتے ہیں بے خودی کے لیے

سرور چاہئے وہ بھی کبھی کبھی کے لیے

یہ کیا کہ بزم میں شمعیں جلا کے بیٹھے ہو

کبھی ملو تو سر راہ دشمنی کے لیے

اودھ کی شام، رفیقوں کو، مہ جبینوں کو

ہر ایک چھوڑ کے آئے تھے بمبئی کے لیے

Saturday, 15 May 2021

چراغ حسرت و ارماں بجھا کے بیٹھے ہیں

 چراغِ حسرت و ارماں بُجھا کے بیٹھے ہیں

ہر ایک طرح سے خود کو جلا کے بیٹھے ہیں

نہ کوئی راہ گزر ہے نہ کوئی ویرانہ

غمِ حیات میں سب کچھ لُٹا کے بیٹھے ہیں

جنوں کی حد ہے کہ ہوش و خِرد کی منزل ہے

خبر نہیں ہے کہاں آج آ کے بیٹھے ہیں

Friday, 12 March 2021

محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے

 محفلوں میں جا کے گھبرایا کیے

دل کو اپنے لاکھ سمجھایا کیے

یاس کی گہرائیوں میں ڈوب کر

زخمِ دل سے خود کو بہلایا کیے

تشنگی میں یاس و حسرت کے چراغ

غم کدے میں اپنے جل جایا کیے

Friday, 5 March 2021

اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں

 اب خانماں خراب کی منزل یہاں نہیں

کہنے کو آشیاں ہے مگر آشیاں نہیں

عشقِ ستم نواز کی دنیا بدل گئی

حسنِ وفا شناس بھی کچھ بدگماں نہیں

میرے صنم کدے میں کئی اور بت بھی ہیں

اک میری زندگی کے تمہیں راز داں نہیں

Thursday, 4 March 2021

چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

 چاہا بہت کہ عشق کی پھر ابتدا نہ ہو

رسوائیوں کی اپنی کہیں انتہا نہ ہو 

جوشِ وفا کا نام جنوں رکھ دیا گیا

اے درد آج ضبطِ فغاں سے سوا نہ ہو

یہ غم نہیں کہ تیرا کرم ہم پہ کیوں نہیں

یہ تو ستم ہے تیرا کہیں سامنا نہ ہو

Wednesday, 3 March 2021

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا

وہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا

اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں

ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا

جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں

کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا

Tuesday, 2 March 2021

سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا

 سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا

ہو سکے ملنے کی اک شام کبھی لکھ لینا

یوں تو ہم اہلِ جنوں کچھ بھی نہیں کرتے ہیں 

گمراہی کا ہی سہی کام کبھی لکھ لینا

میگساروں پہ تڑپنے کی بھی پابندی ہے 

تشنہ کاموں کے لیے جام کبھی لکھ لینا

Monday, 1 March 2021

دشمن جاں کوئی بنا ہی نہیں

 دشمنِ جاں کوئی بنا ہی نہیں

اتنے ہم لائقِ جفا ہی نہیں

آزما لو کہ دل کو چین آئے

یہ نہ کہنا کہیں وفا ہی نہیں

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں

خوش وہ کیا ہوں جب خفا ہی نہیں

Monday, 14 December 2020

شاید مجھ کو اس لمحے نروان ملے

 نروان


اک خوشبو درد سر کی مرجھائی کلیوں کو کھلائے جاتی ہے

ذہن میں بچھو امیدوں کے ڈنک لگاتے ہیں

ہچکی لے کر پھر خود ہی مر جاتے ہیں

دل کی دھڑکن سچائی کے تلخ دھوئیں کو گہرا کرتی پیہم بڑھتی جاتی ہے

پیٹ میں بھوک ڈکاریں لیتی رہتی ہے