Monday, 17 January 2022

گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

 گونجتا شہروں میں تنہائی کا سناٹا تو ہے

بے کسی کا ہمنوا اب تک وہی سایا تو ہے

ٹوٹتی جاتی ہیں امیدوں کی زنجیریں مگر

ٹھوکریں کھانے کو مجبوری کا اک صحرا تو ہے

چاند کیا نکلے گا خوابوں کی اندھیری رات ہے

دور تک تارا خیالوں کا مگر چمکا تو ہے

بوڑھے سرکش زرگری میں رہزنوں کے ساتھ ہیں

انقلابِ نو کا وہ پندار اب ٹوٹا تو ہے

ان خطیبوں کا طلسمِ لن ترانی توڑ دے

اس ہجومِ بے نوایاں میں کوئی ایسا تو ہے

قصۂ آدم کی تلخی زندگی کے ساتھ ہے

جنتیں لاکھوں بنا کر آدمی تنہا تو ہے

شور ہے ڈوبیں ہزاروں عظمتیں تاریخ کی

کتنی خاموشی سے بہتا وقت کا دھارا تو ہے

مسکرا کر زیر لب شاید یہی کہتے ہیں وہ

لاکھ سودائی سہی باقر مگر اپنا تو ہے


باقر مہدی

No comments:

Post a Comment