Showing posts with label کوکب شاہجہانپوری. Show all posts
Showing posts with label کوکب شاہجہانپوری. Show all posts

Sunday, 10 November 2024

جنون عشق سے حل یہ سوال ہو نہ سکا

 جنون عشق سے حل یہ سوال ہو نہ سکا

شعور ہو نہ سکا یا وصال ہو نہ سکا

فراق پردۂ حسن و جمال ہو نہ سکا

جدا نظر سے فروغ خیال ہو نہ سکا

ستم ستم سے جھلکتی رہی بہار کرم

کبھی جلال حجاب جمال ہو نہ سکا

Tuesday, 5 November 2024

وہ غم جو حاصل ہستی ہے مل چکا کہ نہیں

 وہ غم جو حاصل ہستی ہے مل چکا کہ نہیں

پھر اور کون سا ہے لطف دلکشا کہ نہیں

مزاج درد تمنا بدل گیا کہ نہیں

وفا نے رنج کو راحت بنا لیا کہ نہیں

جو دل میں توڑتی رہتی تھی نیشتر ہر دم

ہوئی وہ کاوش جاں کا وہ جاں فزا کہ نہیں

Tuesday, 5 July 2022

کسے شعور ہے یوں زخم دل دکھانے کا

کسے شعور ہے یوں زخم دل دکھانے کا

کہیں نہ دیکھو گے یہ رنگ مسکرانے کا

مِرا لہو ہے نگارِ حیات کی مہندی

مجھے دماغ کہاں اشکِ خوں بہانے کا

 نشاطِ غم ہی تو اس زندگی کا حاصل ہے

اگر ہو دل میں سلیقہ یہ لطف پانے کا

Wednesday, 25 August 2021

یہ ہے مری نظروں کی مناجات کا عالم

یہ ہے مِری نظروں کی مناجات کا عالم

ذرّے بھی دکھاتے ہیں سماوات کا عالم

پُر نُور تِرے حُسن سے آغوش تصور

دُوری میں بھی حاصل ہے ملاقات کا عالم

ایماء کا ہے فیضان کہ احساس کا احسان

ایک ایک جفا میں ہے مدارات کا عالم