جنون عشق سے حل یہ سوال ہو نہ سکا
شعور ہو نہ سکا یا وصال ہو نہ سکا
فراق پردۂ حسن و جمال ہو نہ سکا
جدا نظر سے فروغ خیال ہو نہ سکا
ستم ستم سے جھلکتی رہی بہار کرم
کبھی جلال حجاب جمال ہو نہ سکا
جنون عشق سے حل یہ سوال ہو نہ سکا
شعور ہو نہ سکا یا وصال ہو نہ سکا
فراق پردۂ حسن و جمال ہو نہ سکا
جدا نظر سے فروغ خیال ہو نہ سکا
ستم ستم سے جھلکتی رہی بہار کرم
کبھی جلال حجاب جمال ہو نہ سکا
وہ غم جو حاصل ہستی ہے مل چکا کہ نہیں
پھر اور کون سا ہے لطف دلکشا کہ نہیں
مزاج درد تمنا بدل گیا کہ نہیں
وفا نے رنج کو راحت بنا لیا کہ نہیں
جو دل میں توڑتی رہتی تھی نیشتر ہر دم
ہوئی وہ کاوش جاں کا وہ جاں فزا کہ نہیں
کسے شعور ہے یوں زخم دل دکھانے کا
کہیں نہ دیکھو گے یہ رنگ مسکرانے کا
مِرا لہو ہے نگارِ حیات کی مہندی
مجھے دماغ کہاں اشکِ خوں بہانے کا
نشاطِ غم ہی تو اس زندگی کا حاصل ہے
اگر ہو دل میں سلیقہ یہ لطف پانے کا
یہ ہے مِری نظروں کی مناجات کا عالم
ذرّے بھی دکھاتے ہیں سماوات کا عالم
پُر نُور تِرے حُسن سے آغوش تصور
دُوری میں بھی حاصل ہے ملاقات کا عالم
ایماء کا ہے فیضان کہ احساس کا احسان
ایک ایک جفا میں ہے مدارات کا عالم