Tuesday, 5 July 2022

کسے شعور ہے یوں زخم دل دکھانے کا

کسے شعور ہے یوں زخم دل دکھانے کا

کہیں نہ دیکھو گے یہ رنگ مسکرانے کا

مِرا لہو ہے نگارِ حیات کی مہندی

مجھے دماغ کہاں اشکِ خوں بہانے کا

 نشاطِ غم ہی تو اس زندگی کا حاصل ہے

اگر ہو دل میں سلیقہ یہ لطف پانے کا

جو ذرہ ہے وہ دھڑکتا ہوا سا اک دل ہے

یہ کائنات تاثر ہے کس ترانے کا

ستاروں میں ہی ترنم شگوفوں میں گلبانگ

کہاں نہیں ہے فسوں ان کے گنگنانے کا

مِرا سخن ہے منار ان کے حُسن کا کوکب

ہلا سکے گا نہ طُوفاں کسی زمانے کا


کوکب شاہجہانپوری

No comments:

Post a Comment