Showing posts with label بشیر فاروقی. Show all posts
Showing posts with label بشیر فاروقی. Show all posts

Monday, 21 June 2021

اب کے جنوں میں لذت آزار بھی نہیں

 اب کے جنوں میں لذتِ آزار بھی نہیں

زخمِ جگر میں سرخئ رخسار بھی نہیں

ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت

ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں

یہ حکم ہے کہ سونپ دو نظمِ چمن انہیں

نظمِ چمن سے جن کو سروکار بھی نہیں

Monday, 17 May 2021

کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی

 کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی

چھو کے اس طرح سے گزرا مجھے اکثر کوئی

جتنی نظریں تھیں اسی شخص میں الجھی ہوئی تھیں

جا رہا تھا سر  بازار سنبھل کر کوئی

کون سا حادثہ گزرا نہیں اس پر اس بار

اور وہ ہے کہ شکایت نہیں لب پر کوئی

Thursday, 18 February 2021

مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

 مِرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

وہ جسم پھول ہے لیکن مجھے جلا دے گا

تمہارے مہرباں ہاتھوں کو میرے شانے سے

مجھے گماں بھی نہ تھا وقت یوں ہٹا دے گا

ہے اور کون مِرے گھر میں یہ سوال نہ کر

مِرا جواب، تِرا رنگِ رُخ اُڑا دے گا

Wednesday, 17 February 2021

اس کی نظر کا مجھ پہ کچھ ایسا اثر ہوا

 اس کی نظر کا مجھ پہ کچھ ایسا اثر ہوا

دل تھا صدف مثال برنگ گُہر ہوا

وہ شوخیاں تھیں اور نہ وہ رنگ روپ تھا

کل میں بہت اداس اسے دیکھ کر ہوا

ایثار اور وفا کی مِرے داستاں یہ ہے

جب بھی وطن پہ وار ہوئے میں سِپر ہوا

Monday, 25 January 2021

دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

 دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے

میں تِرے نام کا عامل ہوں، وہ اب جان گئے

حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے

چاند سی ان کی وہ خوشرنگ قبا، وہ دستار

ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے

Sunday, 24 January 2021

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں

 شہرِ فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں

زندگی! آ جا کبھی ہم بے گھروں کے درمیاں

میں ہوں وہ تصویر جس میں حادثے بھرتے ہیں رنگ

خال و خط کھلتے ہیں میرے خنجروں کے درمیاں

پہلے ہم نے گھر بنا کر فاصلے پیدا کیے

پھر اٹھا دیں اور دیواریں گھروں کے درمیاں

Saturday, 23 January 2021

میں جتنی دیر تری یاد میں اداس رہا

 میں جتنی دیر تِری یاد میں اداس رہا

بس اتنی دیر مِرا دل بھی میرے پاس رہا

عجب سی آگ تھی جلتا رہا بدن سارا

تمام عمر وہ ہونٹوں پہ بن کے پیاس رہا

مجھے یہ خوف تھا وہ کچھ سوال کر دے گا

میں دیکھ کر بھی اسے اس سے ناشناس رہا

Tuesday, 19 January 2021

لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

 لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

اس نے مٹھی میں چھپا رکھے ہیں گوہر سارے 

زخمِ دل جاگ اٹھے پھر وہی دن یار آئے 

پھر تصور پہ ابھر آئے وہ منظر سارے 

تشنگی میری عجب ریت کا منظر نکلی 

میرے ہونٹوں پہ ہوئے خشک سمندر سارے