اب کے جنوں میں لذتِ آزار بھی نہیں
زخمِ جگر میں سرخئ رخسار بھی نہیں
ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت
ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں
یہ حکم ہے کہ سونپ دو نظمِ چمن انہیں
نظمِ چمن سے جن کو سروکار بھی نہیں
اب کے جنوں میں لذتِ آزار بھی نہیں
زخمِ جگر میں سرخئ رخسار بھی نہیں
ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت
ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں
یہ حکم ہے کہ سونپ دو نظمِ چمن انہیں
نظمِ چمن سے جن کو سروکار بھی نہیں
کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی
چھو کے اس طرح سے گزرا مجھے اکثر کوئی
جتنی نظریں تھیں اسی شخص میں الجھی ہوئی تھیں
جا رہا تھا سر بازار سنبھل کر کوئی
کون سا حادثہ گزرا نہیں اس پر اس بار
اور وہ ہے کہ شکایت نہیں لب پر کوئی
مِرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا
وہ جسم پھول ہے لیکن مجھے جلا دے گا
تمہارے مہرباں ہاتھوں کو میرے شانے سے
مجھے گماں بھی نہ تھا وقت یوں ہٹا دے گا
ہے اور کون مِرے گھر میں یہ سوال نہ کر
مِرا جواب، تِرا رنگِ رُخ اُڑا دے گا
اس کی نظر کا مجھ پہ کچھ ایسا اثر ہوا
دل تھا صدف مثال برنگ گُہر ہوا
وہ شوخیاں تھیں اور نہ وہ رنگ روپ تھا
کل میں بہت اداس اسے دیکھ کر ہوا
ایثار اور وفا کی مِرے داستاں یہ ہے
جب بھی وطن پہ وار ہوئے میں سِپر ہوا
دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے
عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے
میں تِرے نام کا عامل ہوں، وہ اب جان گئے
حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے
چاند سی ان کی وہ خوشرنگ قبا، وہ دستار
ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے
شہرِ فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں
زندگی! آ جا کبھی ہم بے گھروں کے درمیاں
میں ہوں وہ تصویر جس میں حادثے بھرتے ہیں رنگ
خال و خط کھلتے ہیں میرے خنجروں کے درمیاں
پہلے ہم نے گھر بنا کر فاصلے پیدا کیے
پھر اٹھا دیں اور دیواریں گھروں کے درمیاں
میں جتنی دیر تِری یاد میں اداس رہا
بس اتنی دیر مِرا دل بھی میرے پاس رہا
عجب سی آگ تھی جلتا رہا بدن سارا
تمام عمر وہ ہونٹوں پہ بن کے پیاس رہا
مجھے یہ خوف تھا وہ کچھ سوال کر دے گا
میں دیکھ کر بھی اسے اس سے ناشناس رہا
لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے
اس نے مٹھی میں چھپا رکھے ہیں گوہر سارے
زخمِ دل جاگ اٹھے پھر وہی دن یار آئے
پھر تصور پہ ابھر آئے وہ منظر سارے
تشنگی میری عجب ریت کا منظر نکلی
میرے ہونٹوں پہ ہوئے خشک سمندر سارے