یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے
محبت خود سراسر آگہی ہے
تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا
نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے
یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا
جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے
یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے
محبت خود سراسر آگہی ہے
تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا
نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے
یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا
جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے
بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا
کیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیا
ساقی کی بارگاہ میں توبہ ہوئی قبول
خود ڈھونڈتا ہوا مجھے مے خانہ آ گیا
سجدوں کا میرے ناز اٹھانے کے واسطے
کعبے کے سامنے در جانانہ آ گیا
سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں
گل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیں
شرمندہ ہوں میں اپنی دعاؤں کے اثر سے
وہ آج پریشان ہیں گھبرائے ہوئے ہیں
خودداریٔ گیسو کا ہے اس رخ پہ یہ عالم
جھکنا جو پڑا ان کو تو بل کھائے ہوئے ہیں
عُمر کارِ جہاں سے گُزری ہے
گردشِ آسماں سے گزری ہے
دیکھتا ہوں شباب کو مُڑ کر
زندگانی یہاں سے گزری ہے
دل کی رُودادِ کیف کا عالم
داستاں داستاں سے گزری ہے