Showing posts with label کیفی چریاکوٹی. Show all posts
Showing posts with label کیفی چریاکوٹی. Show all posts

Monday, 19 January 2026

یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے

 یہ دل کی بات ہے کس نے کہی ہے

محبت خود سراسر آگہی ہے

تمہیں کہہ دو کہ میں بالکل نہ سمجھا

نظر جھینپی ہوئی کچھ کہہ رہی ہے

یہ سر پر سایہ گستر خاک صحرا

جنوں بے تاج کی شاہنشہی ہے

Wednesday, 23 April 2025

بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا

 بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا

کیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیا

ساقی کی بارگاہ میں توبہ ہوئی قبول

خود ڈھونڈتا ہوا مجھے مے خانہ آ گیا

سجدوں کا میرے ناز اٹھانے کے واسطے

کعبے کے سامنے در جانانہ آ گیا

Tuesday, 15 April 2025

سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں

 سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں

گل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیں

شرمندہ ہوں میں اپنی دعاؤں کے اثر سے

وہ آج پریشان ہیں گھبرائے ہوئے ہیں

خودداریٔ گیسو کا ہے اس رخ پہ یہ عالم

جھکنا جو پڑا ان کو تو بل کھائے ہوئے ہیں

Saturday, 20 February 2021

عمر کار جہاں سے گزری ہے

عُمر کارِ جہاں سے گُزری ہے

گردشِ آسماں سے گزری ہے

دیکھتا ہوں شباب کو مُڑ کر

زندگانی یہاں سے گزری ہے

دل کی رُودادِ کیف کا عالم

داستاں داستاں سے گزری ہے