دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے
دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے
سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے
جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے
جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں
اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے
چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین
منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے
جگر میں درد ہو تو آنکھ سے آنسو ٹپکتے ہیں
لبا لب ہونے والے جام ہی اکثر چھلکتے ہیں
تیری نظروں کے فیض بیکراں نے چھو لیا جن کو
وہ ذرے مہر عالم تاب کے صورت چمکتے ہیں
ہے مطلوبِ حقیقی شاہ رگ سے بھی قریب اپنے
نہ جانے طالبانِ دید کیوں در در بھٹکتے ہیں
اپنے ہونے لگے ہیں بے گانے
کون جانے کسی کو سمجھانے
وہ خداوندِ عصر ہیں کیا خوب
آپ اپنے سے جو ہیں بیگانے
کس کو فرصت ہے دلنوازی کی
کون سنتا ہے غم کے افسانے
حقائق پر کبھی باطل کا پردہ آ ہی جاتا ہے
حقیقت آشنا لیکن حقیقت پا ہی جاتا ہے
ہجومِ یاس و حرماں سے حصولِ کامرانی ہے
کہ پیہم لغزشوں سے عزمِ راسخ آ ہی جاتا ہے
نہ جانے کون سی منزل ہے یہ عشق و محبت کی
جبیں جھکتی ہی جاتی ہے، گلا کٹتا ہی جاتا ہے