Showing posts with label کوثر جعفری. Show all posts
Showing posts with label کوثر جعفری. Show all posts

Wednesday, 1 July 2026

دنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے

 دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے

عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے

شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے

تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے

دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے

جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے

Wednesday, 25 February 2026

سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

 سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے

جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں

اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے

چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین

منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے

Friday, 27 September 2024

جگر میں درد ہو تو آنکھ سے آنسو ٹپکتے ہیں

جگر میں درد ہو تو آنکھ سے آنسو ٹپکتے ہیں

لبا لب ہونے والے جام ہی اکثر چھلکتے ہیں

تیری نظروں کے فیض بیکراں نے چھو لیا جن کو

وہ ذرے مہر عالم تاب کے صورت چمکتے ہیں

ہے مطلوبِ حقیقی شاہ رگ سے بھی قریب اپنے

نہ جانے طالبانِ دید کیوں در در بھٹکتے ہیں

Wednesday, 11 September 2024

اپنے ہونے لگے ہیں بیگانے

 اپنے ہونے لگے ہیں بے گانے

کون جانے کسی کو سمجھانے

وہ خداوندِ عصر ہیں کیا خوب

آپ اپنے سے جو ہیں بیگانے

کس کو فرصت ہے دلنوازی کی

کون سنتا ہے غم کے افسانے

Sunday, 8 September 2024

حقائق پر کبھی باطل کا پردہ آ ہی جاتا ہے

 حقائق پر کبھی باطل کا پردہ آ ہی جاتا ہے

حقیقت آشنا لیکن حقیقت پا ہی جاتا ہے

ہجومِ یاس و حرماں سے حصولِ کامرانی ہے

کہ پیہم لغزشوں سے عزمِ راسخ آ ہی جاتا ہے

نہ جانے کون سی منزل ہے یہ عشق و محبت کی

جبیں جھکتی ہی جاتی ہے، گلا کٹتا ہی جاتا ہے