سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے
جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے
جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں
اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے
چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین
منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے
اس اندھیرے میں چراغِ راہِ منزل چاہیے
روشنی کی ہے ضروری کارواں کے سامنے
کون جانے کون ہو گا عہدہ برآء اے ندیم
بجلیاں ہی بجلیاں ہیں گلستاں کے سامنے
رحم کرتے ہیں تو کر دیتے ہیں بازو بھی قلم
ہاتھ پھیلا کر بھی دیکھا ہے جہاں کے سامنے
کوثر جعفری
No comments:
Post a Comment