Wednesday, 25 February 2026

سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

 سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے

جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں

اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے

چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین

منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے

اس اندھیرے میں چراغِ راہِ منزل چاہیے

روشنی کی ہے ضروری کارواں کے سامنے

کون جانے کون ہو گا عہدہ برآء اے ندیم

بجلیاں ہی بجلیاں ہیں گلستاں کے سامنے

رحم کرتے ہیں تو کر دیتے ہیں بازو بھی قلم

ہاتھ پھیلا کر بھی دیکھا ہے جہاں کے سامنے


کوثر جعفری

No comments:

Post a Comment