Saturday, 21 February 2026

آسمانوں کے کھلے باب میں دیکھا جاتا

 آسمانوں کے کھلے باب میں دیکھا جاتا

میں کسی روز ترے خواب میں دیکھا جاتا

خاک ہوں اڑتا ہوں سچ ہے کہ میں آوارہ مزاج

پانی ہوتا بھی تو سیلاب میں دیکھا جاتا

بد شکن ہے یوں سرابوں میں دکھائی دینا

اس سے اچھا تو تھا گرداب میں دیکھا جاتا

ایک اجالے نے مجھے جلتا ہوا دیکھ لیا

ورنہ میں اب بھی اسی تاب میں دیکھا جاتا

میرے دشمن نے مجھے قتل کیا چوم لیا

کاش ایسا کوئی احباب میں دیکھا جاتا


مکیش عالم

No comments:

Post a Comment