بچھڑ کر ان سے یاری آشنائی زہر لگتی ہے
یہ دنیا، یہ زمانہ، یہ خدائی زہر لگتی ہے
تلاشِ رزق میں پردیس جا سکتا ہوں میں لیکن
مجھے معصوم بچوں کی جدائی زہر لگتی ہے
لکھا ہے اک بہن نے؛ لوٹ کر کب گاؤں آؤ گے
مِرے بھیا! مجھے سُونی کلائی زہر لگتی ہے
بُرائی جب خود اپنوں کے دلوں میں دیکھتا ہوں میں
مجھے سارے زمانے کی بُرائی زہر لگتی ہے
یہ ہم مسعود سُنتے آئے ہیں اپنے بزرگوں سے
جو کر دے دور اپنوں سے کمائی زہر لگتی ہے
مسعود بھوپالی
No comments:
Post a Comment