Saturday, 28 February 2026

ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

 ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

موسم اس کے لا نہیں پائے ہم بھی تو

ڈوبتے کیسے برف جمی تھی دریا میں

سانسوں سے پگھلا نہیں پائے ہم بھی تو

جس کی تہمت رکھی اپنے بزرگوں پر

وہ دیوار گرا نہیں پائے ہم بھی تو

لڑکے ہم سے پوچھ رہے تھے کون ہیں آپ

برسوں گھر تک جا نہیں پائے ہم بھی تو

کس منہ سے ہم اس کو سمجھاتے افسر

دل کا بوجھ اٹھا نہیں پائے ہم بھی تو


خورشید افسر بسوانی

No comments:

Post a Comment