عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں
ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں
روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا
کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں
محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی
قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں
پھولیں پھلیں گی کیسے محبت کی کھیتیاں
حائل رہا جو بغض وفا کی نمود میں
اک بیج میں ہے بیجوں کا جنگل چھپا ہوا
کتنے وجود اور ہیں گل کے وجود میں
یہ حرف عین عشق سے شاید ہے عقل سے
ہلچل مچا رہا ہے جو فكری جمود میں
اسرار عقل و عشق ہیں زنبیل وقت میں
کچھ راز داد و دہش رہے ہست و بود میں
وہ دلفریب تھا یا نظر کا فریب تھا
رقصاں رہا جو عکس چراغوں کے دود میں
دل میں بسا کے آلؑ محمدؐ کی دوستی
رکھتی ہوں اپنے دل کو حصار درود میں
شائستہ کنول عالی
No comments:
Post a Comment